چرلہ پلی جیل میں دو دن کے دوران دو قیدیوں کی موت

سخت حفاظتی جیل کے واقعات سے قیدیوں کی سلامتی پر تشویش
حیدرآباد ۔ 20 اپریل ۔ (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ کے قید خانے ایسا لگتا ہے کہ قیدیوں کیلئے غیرمحفوظ مقامات بنتے جارہے ہیں۔ گزشتہ روزہ ایک قیدی کی مشتبہ موت کے بعد آج ایک اور قیدی نے ایسیڈ کے استعمال کرتے ہوئے خودکشی کرلی۔ اس قیدی کو اگرچہ اُس کے ساتھی قیدیوں کی چوکسی سے بچالیا گیا لیکن وہ دواخانہ میں فوت ہوگیا۔ یہ واقعہ ریاست کے سب سے بڑے قید خانہ چیرلہ پلی سنٹرل جیل میں پیش آیا جہاں شیکھر نامی قیدی نے ایسیڈ کا استعمال کرلیا ۔ اس واقعہ کے بعد جیل میں قیدیوں نے زبردست احتجاج کیااور جیل حکام پر لاپرواہی اور ہراسانی کاالزام لگایا اور چند عہدیداروں کی معطلی کا مطالبہ کیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ روز شیواکمار نامی قیدی مشتبہ حالت میں فوت ہوگیا اور آج شیکھر نے یہ انتہائی اقدام کیا ۔ قیدی جیل میں اپنے تحفظ کیلئے پریشان ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیرلہ پلی جیل میں چند عہدیدار قیدیوں کو روزآنہ اکثر ناشتہ کے وقت ہراساں و پریشان کررہے ہیں ۔ جیل میں سیل فونس کے استعمال اور سیل فونس کی موجودگی پر تلاشی لی جارہی ہے اور تلاشی کو بہانہ بناکر قیدی کو زدوکوب کرنے کہ جیل حکام پر الزامات پائے جاتے ہیں۔ گزشتہ روز جس قیدی کی مشتبہ حالت میں موت ہوئی تھی وہ گونگا تھا اور شیکھر جس نے آج انتہائی اقدام کیا قتل کیس میں سزاء بھگت رہا تھا ۔ بتایا جاتا ہے کہ ساتھی قیدیوں کو چوکسی کے سبب اس قیدی کو بچالیا گیا تھا۔ جیل حکام نے اس قیدی کو گاندھی ہاسپٹل منتقل کیا جہاں وہ دوران علاج فوت ہوگیا۔جیل حکام نے اقدام خودکشی کا تردید کی ہے ۔