نئے منصوبہ کے بجائے پرانے منصوبہ پر عمل ، جی ایچ ایم سی کا غور و خوص
حیدرآباد 22 اگست ( سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے علاوہ پرانے شہر کے بیشتر علاقوں میں موجود اسکولوں میں آتش فرو آلات کی عدم موجودگی کے متعلق ضلع ایجوکیشن آفیسر کے پاس تفصیلات جمع کی جارہی ہیں ۔ اطلاعات کے بموجب تاحال سرکاری و خانگی اسکولوں میں آتش فرو آلات سے متعلق جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسکولوں میں جو فائر لائسنس جاری کیا جارہا ہے وہ برائے نام معائنہ کے بعد دیا جارہا ہے جبکہ بیشتر اسکولوں میں آتش فرو آلات نصب نہیں ہیں۔ نہ صرف خانگی اسکولوں کی یہ صورتحال بلکہ سرکاری اسکولوں کی حالت اس سے زیادہ ابتر ہے چونکہ سرکاری اسکولوں میں بیشتر اوقات پینے کا پانی دستیاب نہیں ہوتا تو ایسی صورت میں آتشزنی کے واقعات سے نمٹنے کیلئے کیا اقدامات کئے جاسکتے ہیں؟ محکمہ تعلیم کی جانب سے اسکولوں کو الحاق فراہم کرنے کیلئے جو شرائط رکھے گئے ہیں ان شرائط میں محکمہ فائر کی جانب سے کلیئرنس کا حصول بھی شامل ہے لیکن یہ کلیئرنس کیسے حاصل ہورہا ہے اسکولوں کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد واضح ہوجاتا ہے ۔ پرانے شہر کے بیشتر سرکاری اسکولوں کی عمارتوں میں جو صورتحال ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سرکاری اسکولوں میں داخلوں کی کمی کی بنیادی وجوہات میں بیت الخلاء اور دیگر بنیادی ضرورتوں کی عدم موجودگی ہے ۔ ایسی صورت میں جب سرکاری اسکول کسی حادثہ کا شکار ہوتے ہیں تو ان پر کس طرح قابو پایا جاسکتا ہے اس کا کوئی منصوبہ محکمہ تعلیم کے پاس موجود نہیں ہے جبکہ حکومت کے احکامات کے مطابق تمام اسکولوں کیلئے یکساں قوانین نافذ ہیں اور آتش فرو آلات کی تنصیب کے معاملہ میں کسی بھی قسم کی غفلت کے باعث بڑے حادثات رونما ہوسکتے ہیں۔ محکمہ فائر کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ سرکاری اسکولوں میں بیشتر مقامات پر آتش فرو آلات نصب نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود کوئی کارروائی کی جانا ممکن نظر نہیں آتا۔ اسی طرح خانگی اسکولوں کی صورتحال کچھ بہتر ہے لیکن خانگی اسکولوں میں بھی آتش فرو آلات کی تنصیب کے متعلق لاپرواہی برتے جانے کا مزاج بنا ہوا ہے ۔ اسکول میں یہ لازمی ہے کہ کسی بھی طرح کی آتشزنی کے واقعہ پر فوری کنٹرول کیلئے پانی کی بڑی ٹانکی ،ایمرجنسی لائٹ، فائر الارم و دیگر آتش فرو آلات نصب کئے جائیں ۔ سرکاری اسکول کے ایک عہدیدار سے جب اس سلسلہ میں دریافت کیا گیا کہ کیا اسکول میں آتش فرو آلات نصب ہیں یا پھر محکمہ فائر کے قواعد کو اسکول کی عمارت پورا کررہی ہے تو انتظامیہ کے اس اہم ذمہ دار نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسکول میں پینے کے پانی کی قلت اور بیت الخلاء میں پانی کی قلت کے باعث کئی مرتبہ طلبہ کو مقامی مکانات روانہ کیا جاتا ہے تا کہ وہ اسکول میں استعمال کیلئے پانی جمع کرسکے ۔ ایسی صورت میں سرکاری اسکولوں سے آتش فرو آلات کی تنصیب کی توقع کرنا فضول ہے ۔ محکمہ تعلیم کے عہدیدار خانگی اسکولوں پر آتش فرو آلات کی تنصیب کیلئے دباو ڈال رہے ہیں جبکہ سرکاری اسکولوں کی حالت اس سے زائد ابتر ہے ۔ محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کو چاہئے کہ وہ سرکاری اور خانگی اسکولوں میں تفریق کئے بناء بچوں کی حفاظت پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے شہر کے تمام اسکولوں میں آتش فرو آلات کی تنصیب کو یقینی بنائے تا کہ کسی قسم کے ناگہانی واقعات پیش آنے کی صورت میں اُن پر فوری قابو پایا جاسکے ۔ پرانے شہر کے اسکولوں کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ بنڈلہ گوڑہ ،بہادر پورہ ،چارمینار کے علاوہ سعید آباد منڈل کے بیشتر اسکولوں میں آتش فرو آلات نصب نہیںکئے گئے ہیں اور ان اسکولوں کی تعداد 800 کے قریب ہوچکی ہے لیکن اس کے باوجود ان اسکولوں کو اجازت نامہ حاصل ہورہے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خود محکمہ تعلیم کے عہدیدار اس معاملہ میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ اسکول انتظامیہ بالخصوص سرکاری اسکولوں کے ذمہ داران کو بھی چاہئے کہ وہ بچوں کے نگہداشت اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے اقدامات میں کسی قسم کی مفاہمت نہ کریں چونکہ یہ معاملہ کسی ایک فرد یا انتظامیہ سے جڑا ہوا نہیں ہوتا بلکہ اسکولوں میں بچوں کی حفاظت نہ صرف انتظامیہ بلکہ حکومت پر بھی اس کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے چونکہ حکومت کی جانب سے نافذ کردہ قواعد و قوانین پر عدم عمل آوری کی صورت میں عہدیداروں کی خاموشی کی وجوہات کیا ہوتی ہیں اس کا سبھی کو اندازہ ہے اسی لئے عہدیداروں کو چاہئے کہ وہ قواعد و قوانین پر موثر عمل آوری کو یقینی بنانے کے اقدامات کریں۔