چارمینار اور مکہ مسجد کا علاقہ کیمرہ زون میں تبدیل

طاقتور کیمروں سے چھوٹی سے چھوٹی چیز کی بھی فلم بندی ، کسی بھی ناخوشگوار واقعات روکنے کے اقدام
حیدرآباد ۔ 17 ۔ اپریل : ( نمائندہ خصوصی ) : وقار احمد اور ان کے چار ساتھیوں سمیت پانچ مسلم نوجوانوں کو آلیر میں 7 اپریل کو فرضی انکاونٹر میں ہلاک کردئیے جانے کے بعد مسلمانوں میں شدید بے چینی اور برہمی پیدا ہوگئی ہے اور گذشتہ جمعہ نماز کے بعد چارمینار کے اطراف سنگ باری کا واقعہ پیش آیا تھا ۔ مگر اس کشیدگی کا بہانہ بناتے ہوئے قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے چارمینار اور اطراف و اکناف کو ایک طرح سے کیمرہ زون میں تبدیل کردیا ہے اور مسلم نوجوانوں کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھنے کے لیے ایسے ایسے مقامات پر سی سی کیمرے نصب کردئیے گئے ہیں جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے ۔ اب حالت یہ ہے کہ چارمینار اور مکہ مسجد کے قریب سے گذرنے والا کوئی بھی شخص ان ہائی ٹیک کیمروں سے محفوظ بچ کر نہیں نکل سکتا ۔ کیوں کہ تاریخی چارمینار کی گھڑیال پر بھی سی سی کیمرہ نصب کردیا گیا ہے ۔ جو اس قدر اڈوانس ہے جو شاہ علی بنڈہ تک باریک سے باریک چیز بھی دیکھ سکتا ہے ۔ ہم نے عام آدمی سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ اب تو یہاں سے کسی بھی شخص کا کیمرے کی نظر سے بچ کر نکل جانا ممکن نہیں ہے ۔ آج جمعہ کے پیش نظر سیکوریٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے تھے لیکن الحمدﷲ یہاں کوئی چھوٹا سا واقعہ بھی پیش نہیں آیا ۔ لیکن گذشتہ جمعہ اور آج کے جمعہ کے درمیان جو واضح فرق نظر آیا وہ یہ تھا کہ چارمینار ، مکہ مسجد ، چارمینار دواخانہ ، قریبی برقی پولس وغیرہ پر نئے اور اڈوانس ڈیجیٹل کیمرے نصب کردئیے گئے ۔ یہ کیمرے اس قدر اڈوانس ہیں کہ عام آدمی کے چہرے تو کیا گاڑی کے نمبرات اور اس سے بھی باریک چیزیں اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ یہ کیمرے ان کیمروں کے علاوہ ہیں جو پولیس مخبروں اور سادہ لباس میں تعینات افراد کے ہاتھوں میں لیے پھرتے ہیں ۔ بہرحال مقامی افراد بالخصوص مکہ مسجد کے مصلیوں کو چوکس رہنا چاہئے کیوں کہ ان پر کیمروں کے ساتھ ساتھ چلتے پھرتے کیمروں کی بھی نظر رہتی ہے ۔۔