پیاز کی ای سی ایکٹ میں شمولیت پر کسان ناراض

لاسل گاؤں (ناسک ) ۔ 26 اگست ۔ (سیاست ڈاٹ کام ) ریاستی حکومت نے پیاز کو قانون لازمی اشیاء (ای سی اے ) کے تحت شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اقل ترین امدادی قیمت نیز ریل کی شرح باربرداری کے معاملے میں رعایتوں کا اعلان نہیں کیا جس پر یہاں کسانوں اور تاجروں نے فکرمندی اور تشویش ظاہر کی ہے ۔ لاسل گاؤں اگریکلچرل پروڈیوس مارکٹ کمیٹی چیرمین نانا صاحب پاٹل نے یہاں میڈیا کو بتایا کہ کسانوں کے مفادات کے تحفظ کیلئے حکومت کو پیاز کے لئے اقل ترین امدادی قیمت کا اعلان جلد از جلد کرنا چاہئے کیونکہ اسے قانون لازمی اشیاء کے تحت شامل کردیا گیا ہے۔ انھوں نے نشاندہی کی کہ پیاز کو اس قانون کے تحت نہیں لایا جاسکتا کیونکہ یہ قانون کوئی بھی شئے کی ذخیرہ اندوزی سے منع کرتا ہے ۔ یہ ترکاری ای سی اے کے تحت آتی ہی نہیں ، جیسا کہ پیاز ایسی شئے ہے جسے غیرموسم والی مدت کیلئے محفوظ کرنا پڑتا ہے ۔ اور یہ موسم مارچ سے سپٹمبر کے دوران ہوا کرتا ہے جبکہ کاشتکاری نہیں ہوتی ۔ اگر پیاز کی ذخیرہ اندوزی پر تحدید عائد کردی جائے تو آف سیزن کے 7 ماہ کے دوران اس شئے کی سربراہی نہایت مشکل ہوجائیگی اور قیمتیں بڑھیں گی۔