پٹرول و ڈیزل پر اکسائز ڈیوٹی میں اضافہ غیر منصفانہ

نئی دہلی 14 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) سی پی آئی ایم نے پٹرول اور ڈیزل پر اکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کے فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ حکومت یہ کہتے ہوئے عوام کو گمراہ کر رہی ہے کہ اس کے نتیجہ میں ریٹیل قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوگا ۔ پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم اشیا پر ٹیکس ڈھانچہ پر نظر ثانی کی جائے اور ان اشیا پر والوریم ٹیکس کو برخواست کیا جائے ۔ سی پی ایم پولیٹ بیورو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ حکومت عوام سے یہ کہہ رہی ہے کہ پٹرولیم اشیا پر اکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کے نتیجہ میں ریٹیل قیمتیں نہیں بڑھیں گی ۔ یہ غلط ہے ۔ حکومت عوام کو گمراہ کر رہی ہے

۔ سی پی ایم نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے اکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کے نتیجہ میں آئندہ دنوں میں پٹرولیم اشیا کی قیمتوں میں کمی ہونے کا امکان ختم کردیا ہے ۔ یہ کمی جلد ہونے والی تھی ۔ پارٹی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پٹرولیم اشیا پر اکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کے ذریعہ حکومت جاریہ مالیاتی سال 6,000 کروڑ روپئے مالیہ وصول کرنا چاہتی ہے ۔ پارٹی نے کہا کہ حکومت نے اس فیصلے کے ذریعہ آئندہ دنوں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں کمی کے امکان کو ختم کردیا ہے اس کے علاوہ مستقبل میں جب کبھی بین الاقوامی سطح پر پٹرولیم اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا اس کے نتیجہ میں عوام پر اضافی بوجھ عائد کیا جائیگا ۔ پٹرول اور ڈیزل پر اکسائز ڈیوٹی میں فی لیٹر 1.50 روپئے کے بھاری اضافہ کی شدید مخالفت کرتے ہوئے پارٹی نے کہا کہ ان پٹرولیم اشیا پر پہلے ہی بھاری محاصل عائد ہیں اور مزید اضافہ کے نتیجہ میں ریٹیل شرحوں میں اضافہ ہوگا ۔ ایسے میں ٹیکس اضافہ کی مدافعت نہیں کی جاسکتی ۔ پارٹی نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ پٹرولیم اشیا کی قیمتوں پر عائد ہونے والے محاصل کے ڈھانچہ پر نظر ثانی کی جائے اور اس میں تبدیلی کی جائے ۔ پارٹی نے کہا کہ جو محاصل ان اشیا پر عائد کئے جا رہے ہیں انہیں برخواست کرنے کی ضرورت ہے ۔