نئی دہلی 14 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) پٹرول قیمتوںمیں آج ایک روپیہ فی لیٹر کی کٹوتی کردی گئی ہے تاہم ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے اور ہوسکتا ہے کہ مہاراشٹرا اور ہریانہ میں اسمبلی انتخابات کے عمل کی تکمیل کے بعد ان قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا جائیگا ۔ سرکاری تیل کمپنیوں نے یکم اکٹوبر کو پٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 54 پیسے کی کٹوتی کی تھی اور آج نصف شب سے انہوں نے ان قیمتوں میں فی لیٹر ایک روپیہ کی مزید کمی کردی ہے ۔ انڈین آئیل کارپوریشن نے آج یہ اعلان کیا ہے ۔ پٹرول کی قیمتوں پر نظر ثانی شیڈول کے مطابق کل ہونی چاہئے تھی تاہم مہاراشٹرا اور ہریانہ میں اسمبلی انتخابات کیلئے کل ہونے والے رائے دہی سے ایک دن قبل ہی کٹوتی کا اعلان کردیا گیا ہے ۔ مقامی سیلس ٹیکس وغیرہ کے شمار کے بعد اب دہلی میں پٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 1.21 روپیہ کی کمی ہوگی ۔ انڈین آئیل کارپوریشن کے بموجب دہلی میں اب پٹرول 66.65 روپئے فی لیٹر دستیاب ہوگا ۔
ممبئی میں پٹرول کی قیمت 75.73 روپئے فی لیٹر سے گھٹ کر 74.46 روپئے فی لیٹر ہوجائیگی ۔ انڈین آئیل کارپوریشن نے کہا کہ گذشتہ مرتبہ پٹرول کی قیمت میں کمی کے بعد سے بین الاقوامی سطح پر پٹرول کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے ۔ حالانکہ اس عرصہ میں ہندوستانی روپیہ اور امریکی ڈالر کے شرح تبادلہ میں تفاوت پیدا ہوگیا ہے ۔ اس فرق کے باوجود پٹرول کی قیمتوں میں کمی کی گنجائش نکل آئی ہے اور فی لیٹر ایک روپیہ کی کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ کارپوریشن نے کہا کہ قیمتوں میں کمی پر آج نصف شب سے عمل آوری کا آغاز ہوا ہے ۔ قیمتوں کے علاوہ مقامی محاصل اور ویاٹ میں بھی کمی واقع ہوگی ۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ ڈیزل کی قیمتوں میں بھی فی لیٹر 2.5 روپئے فی لیٹر کی کٹوتی کی جائیگی تاہم اس کا اعلان اتوار کو مہاراشٹرا اور ہریانہ میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد کیا جائیگا ۔ ڈیزل کی قیمتوں میں گذشتہ چار سال میں پہلی مرتبہ کسی کٹوتی کی امید پیدا ہوئی ہے ۔
اب تک ڈیزل کی فروخت پر جو نقصان ہو رہا تھا اس کی ہر پندرہ دن میں ایک مرتبہ معمولی اضافہ کرتے ہوئے پابجائی کی گئی ہے ۔ اب ڈیزل کی قیمت پر سرکاری تیل کمپنیوں کو کوئی نقصان نہیں ہو رہا ہے بلکہ انہیں فائدہ ہو رہا ہے ۔ مختلف گوشوں سے مطالبہ کیا جارہا تھا کہ حکومت عوام پر ڈیزل کی قیمتوں سے جو بوجھ عائد ہو رہا ہے اس سے فوری دستبرداری اختیار کرلے کیونکہ ڈیزل کی قیمتوں کا تقریبا تمام اشیائے ضروریہ کی قیتموں پر اثر ہوتا ہے ۔ ٹرانسپورٹ شعبہ سے یہ اثرات ہوتے ہیں۔ ابھی تک ڈیزل کی قیمتوں پر حکومت کا کنٹرول ہے اور اسے حکومت کے قابو سے آزاد نہیں کیا گیا ہے ۔ گذشتہ مہینے بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے نتیجہ میں ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے باعث تیل کمپنیوں کو پہلی مرتبہ ڈیزل کی فروخت پر نفع حاصل ہو رہا ہے ۔ ڈیزل قیمتیں ؎حکومت کے کنٹرول میں ہیں ۔ حکومت نتائج کے اعلان سے قبل ان میں کمی کا اعلان نہیںکرسکتی ۔