پٹرول اور ڈیزل پر اکسائز ڈیوٹی میں اضافہ

نئی دہلی ۔ 13 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر اکسائز ڈیوٹی میں 1.50 روپئے فی لیٹر کا اضافہ کیا ہے۔ تاہم چلر فروش قیمت میں اضافہ نہیں ہوگا۔ تیل کی کمپنیوں نے عالمی مارکٹ میں قیمت میں گراوٹ کے باوجود یہ فیصلہ کیا ہیکہ مزید کمی نہ کی جائے۔ اکسائز ڈیوٹی میں اضافہ سے حکومت کو سالانہ تقریباً 13000 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوگی اور بجٹ خسارہ سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ انڈین آئیل کارپوریشن نے بتایا کہ اکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کا بوجھ صارفین پر عائد نہیں کیا جائے گا اور بین الاقوامی مارکٹ میں گراوٹ کے باعث قیمت میں جو کمی کئے جانے کا امکان تھا اس سے گریز کرتے ہوئے اضافہ کو مساوی کردیا جائے گا۔ بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمت میں کمی کے باعث اگست سے اب تک پٹرول کی قیمت میں متواتر 6 مرتبہ اور ڈیزل کی قیمت میں گذشتہ ایک مرتبہ کمی کی گئی۔ جاریہ ہفتہ مزید کمی کا امکان تھا۔ عمومی اور بنا برانڈ کے پٹرول پر اکسائز ڈیوٹی میں 1.20 فی لیٹر تا 2.70 روپئے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔

اسی طرح بغیر برانڈ کے ڈیزل کی قیمت میں 1.46 روپئے تا 2.96 روپئے فی لیٹر اکسائز ڈیوٹی کا اضافہ کیا گیا۔ سرکاری اعلامیہ کے مطابق برانڈیڈ پٹرول پر اکسائز ڈیوٹی میں 2.35 تا 3.85 روپئے فی لیٹر اور برانڈیڈ ڈیزل پر 3.75 تا 5.25 روپئے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا۔ انڈین آئیل کارپوریشن کے صدرنشین بی اشوک نے بتایا کہ فی الحال اکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کا بوجھ عوام پر عائد نہیں کیا جارہا ہے۔ یہ بوجھ کمپنیاں قیمتوں میں نظرثانی کے ذریعہ اڈجسٹ کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ قیمتوں پر 15 دن بعد یعنی ختم نومبر تک نظرثانی کی جائے گی۔ اکسائز ڈیوٹی میں اضافہ سے قبل دہلی میں پٹرول کی قیمت 64.25 روپئے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 53.35 روپئے فی لیٹر تھی۔ تاہم اب بھی یہی قیمت برقرار رہے گی اور چلر فروشی کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔