پٹاخہ ساز فیکٹری میں دھماکہ کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش

مدناپور ( مغربی بنگال ) ۔ 8 ۔ مئی : (سیاست ڈاٹ کام ) : ضلع مغربی مدناپور کے پنگلا میں واقع ایک غیر قانونی پٹاخہ ساز فیکٹری میں بم بنانے کے الزامات کے پیش نظر سی آئی ڈی نے آج یہ دعویٰ کیا کہ وہاں پر صرف پٹاخے تیار کئے جارہے تھے جب کہ اس فیکٹری میں چہارشنبہ کی شب دھماکہ میں 12 افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل سی آئی ڈی ( آپریشن ) مسٹر ڈی کے اڈاک نے بتایا کہ وہاں پر ایک پٹاخہ ساز فیکٹری تھی جہاں پر چھوٹے چھوٹے پٹاخے تیار کئے جارہے تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ مقام دھماکہ سے سنٹرل فارنسک لیبارٹری نے نمونے حاصل کرلیے ہیں اور بہت جلد تحقیقات کے لیے روانہ کردئیے جائیں گے ۔ دریں اثناء آئی جی پی ( ویسٹرن رینج ) ایس این گپتا نے کل بتایا تھا کہ دھماکہ کے مقام سے 12 جھلسی ہوئی نعشیں برآمد کرلی گئیں جب کہ دیگر 4 افراد شدید زخمی ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ مالک مکان رنجن میتھی کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ پولیس نے بتایا کہ پٹاخہ ساز فیکٹری غیر قانونی تھی اور فیکٹری میں کام کرنے والے مزدوروں کو ضلع مرشد آباد سے لایا گیا تھا ۔ قبل ازیں بی جے پی کے ریاستی صدر راہول سنہا نے کل دھماکہ واقعہ کی این آئی اے کے ذریعہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا اوریہ الزام عائد کیا کہ غیر قانونی فیکٹری میں بم تیار کئے جارہے تھے ۔۔