حیدرآباد۔/20جون، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے پارٹی ارکان پارلیمنٹ کو ہدایت دی کہ وہ مرکزی حکومت پر پولاورم آرڈیننس سے دستبرداری کیلئے دباؤ بنائیں۔ کے سی آر نے پارٹی ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ اجلاس میں کہا کہ تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی پر مبنی اس آرڈیننس سے دستبرداری کو اولین ترجیح دی جانی چاہیئے۔ وہ بہت جلد کُل جماعتی وفد کے ساتھ اس سلسلہ میں وزیر اعظم سے نمائندگی کریں گے۔ انہوں نے ارکان پارلیمنٹ سے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں تمام درکار مواد تلنگانہ حکومت کے عہدیداروں سے حاصل کرلیں۔ چندر شیکھر راؤ نے ارکان پارلیمنٹ جتندر ریڈی، کویتا، ڈاکٹر بی نرسیا گوڑ، سیتا رام نائیک، بی سمن، نگیش کمار، ونود کمار اور وشویشور ریڈی کے ساتھ اجلاس منعقد کیا۔ انہوں نے ارکان پارلیمنٹ کو بتایا کہ اس مسئلہ پر مرکزی حکومت کو تمام درکار مواد کی فراہمی کیلئے انہوں نے حکومت کے نمائندوں کے طور پر وینو گوپال چاری اور آر رام چندروڈو کو مقرر کیا ہے۔ چندر شیکھر راؤ نے بتایا کہ اس ماہ کی 24 اور 25تاریخ کو وہ کُل جماعتی وفد کے ساتھ نئی دہلی کے دورہ پر غور کررہے ہیں۔ قطعی تاریخ کا بہت جلد اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے ارکان پارلیمنٹ سے کہا کہ وہ آندھرا پردیش کو زائد فنڈز کے حصول کیلئے مساعی کریں۔ ریاست کی تقسیم کے بعد مرکز سے آندھرا پردیش کو ضروری امداد اور خصوصی ریاست کے موقف کے تحت پراجکٹس کی منظوری پر توجہ دینے ارکان پارلیمنٹ کو ہدایت دی گئی۔ چندر شیکھر راؤ نے مختلف مرکزی وزارتوں سے متعلق اُمور کی یکسوئی کیلئے ارکان پارلیمنٹ کو ذمہ داری دی ہے۔ ونود کمار ( وزارت داخلہ) کویتا ( فینانس) کونڈا وشویشور ریڈی ( بھاری صنعتیں) ڈاکٹر بی نرسیا گوڑ ( لیبر ) کے سری ہری ( زراعت ) بی سمن ( دیہی ترقی) بی بی پاٹل ( آبی وسائل ) نگیش کمار (کانکنی) اور سیتا رام نائیک کو سماجی انصاف وزارتوں کے اُمور کے ذمہ دارہوں گے۔