بجٹ کے باوجود حکومت اور حکام کا غیر ذمہ دارانہ رویہ ، اولیائے طلبہ اور طلباء پریشان
حیدرآباد ۔ 17 ۔ فروری : ( نمائندہ خصوصی ) : ریاست تلنگانہ میں اقلیتوں کے لیے وقفہ وقفہ سے نئی نئی اسکیمات کا اعلان کیا جاتا ہے ۔ جس پر مسلمان اور مسلم تنظیمیں اور ان تنظیموں کے قائدین خوشی سے پھولے نہیں سماتے ۔ اخبارات میں خیر مقدمی بیانات کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ۔ چیف منسٹر سے لے کر وزراء یہاں تک کہ اقلیتی بہبود کے عہدہ داروں کی شان میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دئیے جاتے ہیں ۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان اسکیمات میں سے صرف ایک یا دو اسکیمات پر ہی عمل آوری کی جاتی ہے جب کہ دیگر اہم اور بڑی اسکیمات پر ایک طرح سے عمل آوری ہی نہیں کی جاتی ۔ نتیجہ میں اقلیتوں کے لیے جو کروڑہا روپئے کا بجٹ مختص کیا جاتا ہے وہ خرچ ہی نہیں ہوپاتا ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے کوئی لیڈر جماعتیں اور تنظیمیں حکومت سے یہ استفسار ہی کرتے کہ آخر اقلیتی بہبود کے لیے مختص کردہ فنڈ خرچ کیوں نہیں کیا گیا ؟ اگر یہ فنڈ خرچ ہی نہ کیا جائے تو پھر اقلیتوں کو فائدہ کیسے حاصل ہوگا ؟ ان کی مالی بدحالی خوشحالی میں کیسے بدلے گی ؟ کے سی آر حکومت نے اقلیتوں کے لیے 1030 کروڑ روپئے کا بجٹ مختص کیا لیکن اب مالی سال ختم ہونے کو ہے ایسے میں بجٹ کا خرچ نہ ہونے یہ حکومت اور اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کے لیے بڑی معیوب بات ہے ۔ قارئین … اگر حکومت اور حکام سلیقہ شعاری سے کام لیتے ہوئے اسکیمات پر عمل آوری کو یقینی بناتے تو اس کے بہتر نتائج برآمد ہوتے ۔ عہدہ داروں کی غفلت کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ ریاست کی پوسٹ میٹرک اسکالر شپس کی آن لائن درخواستوں کی تاریخ کا آج تک اعلان نہیں کیا گیا ۔ یہ اسکالر شپ انٹر میڈیٹ سے لے کر پی ایچ ڈی طلبہ کو دی جاتی ہے ۔ خاص طور پر پیشہ وارانہ کورسیس کے طلبہ کے لیے یہ اسکیم نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں ۔ لیکن اس اسکالر شپ کے لیے درخواستوں کی آن لائن ادخال کی تاریخ کا اعلان نہ کئے جانے کے نتیجہ میں طلباء اور اولیائے طلبہ میں زبردست بے چینی پائی جاتی ہے ۔ اسکالر شپ کے نہ ملنے کے نتیجہ میں کئی طلباء و طالبات پریکٹیکل امتحانات میں نہیں بیٹھ سکے جب کہ مختلف کالجس کے انتظامیہ فیس کی ادائیگی پر زور دے رہے ہیں ۔ راقم الحروف سے اس سلسلہ میں کئی اولیائے طلبہ نے بات چیت کی اور بتایا کہ فیس کی عدم ادائیگی کے نتیجہ میں ان طلبہ کو سرٹیفیکٹس جاری کرنے سے گریز کیا جارہا ہے جنہوں نے سال آخر میں کامیابی حاصل کرلی ہے ۔ ایسے طلبہ اپنے تعلیمی اسناد نہ ملنے پر پریشان ہیں ۔ دوسری طرف ریاست آندھرا پردیش میں پوسٹ میٹرک اسکالر شپ کی تاریخ آئی اور چلی بھی گئی لیکن ہماری ریاست میں عہدیدار کیا کررہے ہیں اس بارے میں کوئی تشفی بخش جواب سامنے نہیں آرہا ہے ۔ دوسری جانب سالانہ امتحانات کے لیے ایک تا دیڑھ ماہ باقی رہ گئے ہیں ۔ طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے ۔ عہدیداروں سے استفسار کرنے پر کہا جاتا ہے کہ 2013-14 کی رقم منظور ہوگئی ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر رقم منظور ہوگئی تو پھر طلبہ تک کیوں نہیں پہنچ پا رہی ہے ۔ محکمہ اقلیتی بہبود سے رجوع ہونے پر طلبہ اور اولیائے طلبہ کو جواب دیا جاتا ہے کہ آپ لوگوں نے اپنے اکاونٹ اپ ڈیٹ نہیں کیے ہیں ۔ ٹریژری میں فائیل پڑی ہوئی ہے ۔ 8 تا 15 دن میں یکسوئی ہوجائے گی ۔ اس طرح کے بہانے بناتے ہوئے حکام اپنی ذمہ داریوں سے پہلوتہی کررہے ہیں ۔ دفتر سیاست پر بے شمار اولیائے طلبہ نے رجوع ہو کر بتایا کہ پوسٹ میٹرک اسکالر شپ کی تاریخ کے عدم اعلان سے انہیں کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ یہ ان کے بچوں کے مستقبل کا سوال ہے ۔ بہر حال اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اور عہدیدار صرف دعوے کرتے رہیں گے یا پھر عملی اقدامات بھی کریں گے ؟۔۔