پٹیالہ۔12 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) تقسیم ہند کے وقت قتل و غارتگری کے جو وحشتناک واقعات پیش آئے تھے، ان کا آنکھوں دیکھا حال مختصر کہانیوں کی شکل میں ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ اور ’’کھول دو‘‘ میں قلمبند کیا گیا تھا۔ یہ تحریریں آزادی کے بعد برصغیر میں زندہ جاوید بن گئی اور نئی نسل ان تحریروں کے مطالعہ سے اس وقت کے دلخراش حالات سے واقف ہوئی لیکن ان واقعات کے محرر سعادت حسین منٹو کو اب پنجاب میں فراموش کردیا جارہا ہے اور ان کی تحریروں کو نصابی کتب سے حذف کردیا گیا ہے جبکہ پنجاب ان کی آبائی ریاست ہے۔ ایک متنازعہ اقدام کرتے ہوئے پنجاب یونیورسٹی (پٹیالہ) منٹو کی تحریروں کو ایم اے (پنجابی) کورس کے نصاب سے نکال دیا ہے اور اس کی جگہ جاپان کی مختصر کہانیوں کو شامل کیا گیا ہے۔ اب یہاں کے طلباء مشہور افسانہ تھنڈاگوشت ذیجا نے جاپانی کہانیوں کا پنجابی ترجمہ پڑھیں گے۔ پنجاب یونیورسٹی ریاست کی واحد یونیورسٹی ہے جہاں یہ اردو تصانیف پڑھائی جاتی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کے بورڈ آف پوسٹ گرائجویٹ اسٹڈیز نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ سعادت حسین منٹو کی کہانیوں کو نکال کر دوسرے نئے ادیبوں کو شامل کیا جائے۔ ڈاکٹر سکھبیر سنگھ صدر شعبہ پنجابی نے یہ اطلاع دی اور بتایا کہ ہم اپنے نصاب میں تبدیلی اور جدید ادب کو روشناس کروانا چاہتے ہیں اور طلباء کو دوسرے ممالک کے ادب سے واقف کرواتے ہوئے جاپانی ادب کا انتخاب کیاگیا ہے۔ واضح رہے کہ سعدات حسین منٹو لدھیانہ کے قریب سامرلہ گائوں میں پیدا ہوئے اور ممبئی میں ہندی فلموں سے وابستگی کے بعد پاکستان منتقل ہوگئے تھے۔