متحدہ ریاست میں کئی مراعات سے محروم ، پروفیسر کیشو راؤ جادھو
حیدرآباد۔10مارچ(سیاست نیوز) آصف جاہی دور کے فلاحی کاموں کو عظیم کارنامہ قراردیتے ہوئے کنونیر تلنگانہ جنا پریشدپروفیسرکیشور رائو جادھونے کہاکہ آصف جاہی حکمرانوں نے 152کے قریب تجارتی مراکز قائم کرتے ہوئے علاقہ تلنگانہ کی عوام کو بلاتفریق مذہب ذات پات روزگار کے مواقع فراہم کئے تھے جس کو متحدہ ریاست آندھرا پردیش کے قیام کے بعد منظم انداز میںتباہی کے دہانے پر پہنچادیا گیا۔جادھو نے کہاکہ آصف جاہی دور میںہی مفت معیاری تعلیم کے مواقع بھی علاقہ تلنگانہ میں پسماندگی کا شکار تمام طبقات کو فراہم کئے گئے تھے او ریہی وجہہ تھی کہ پورے ملک میںریاست حیدرآباد کا اپنا منفرد مقام بھی تھا۔انہوں نے کہاکہ ریاست حیدرآباد کے انڈین یونین میںشامل ہونے اور مابعد تلنگانہ کے آندھرا میںانضمام سے لیکر اب تک پیش آئے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ متحدہ ریاست آندھرا پردیش کے قیام کا سب سے خراب اثر علاقہ تلنگانہ کے مسلمانوں کی زندگیوں پر پڑا ۔انہوں نے کہاکہ جہاں مسلم آبادی کی اکثریت تعلیم یافتہ تھی وہیں پچھلے ساٹھ سالوں میں آندھرائی قائدین اور سرمایہ داروں کی سازشوں کے سبب مسلمانو ں کی اکثریت تعلیم سے محروم ہوگئی۔ انہوں نے کہاکہ اس علاوہ مسلمانوں کو سرکاری شعبوں سے بھی دور رکھا گیا ۔ مسلمانوں کی معاشی پسماندگی کی بھی وجہہ بنا۔انہوں نے کہاکہ ساٹھ سالہ طویل جدوجہد کے بعد تلنگانہ ریاست کی تشکیل کا عمل کو پورا ہونے جارہا ہے تو ان حالات میںتلنگانہ تحریک کے دوران علاقہ تلنگانہ کے مسلمانوں کے بشمول پسماندگی کاشکار تمام طبقات کے ساتھ انصاف کو یقینی بنانے کے لئے جو وعدے کئے ۔
انہیں پوراکرنا لازمی ہے۔انہوں نے کہاکہ پسماندگی کا شکار طبقات بالخصوص مسلمانوں سے کئے گئے وعدوں کو عملی جامعہ پہنانے کی حکمت عملی ضروری ہے ۔ مسٹر کیشورائو جادھو نے علاقہ تلنگانہ کے مسلمانوں کو آبادی کے تناسب سے تمام شعبہ حیات میں تحفظات کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ سنہری ریاست تلنگانہ کو یقینی بنانے کے لئے متحدہ ریاست آندھرا دیش میںسب سے زیادہ شکار مسلم سماج کو آبادی کے تناسب سے تحفظات لازمی ہیں ۔ انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو عملی جامعہ پہنانے کے لئے علاقائی اور قومی جماعتوں پر دبائو کی حکمت عملی بھی تیار کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ جس طرح تلنگانہ تحریک کے دوران علاقہ تلنگانہ کی قومی اور علاقائی سیاسی جماعتوں پر علیحدہ تلنگانہ کی تائید کے لئے دبائو ڈالا گیا اسی طرح تلنگانہ ریاست میںپسماندگی کا شکار طبقات کو ان کا حق دلانے کے لئے بھی مجوزہ ریاست کی قومی اور علاقائی سیاسی جماعتوں پر دبائو ڈالا جائے ۔