پروفیسر سائی بابا کی فوری رہائی کا مطالبہ

حیدرآباد ۔ 15 اپریل (سیاست نیوز) انسانی حقوق کیلئے سرگرم کارکن اور قائدین اب جیلوں میں حکومتوں کو کھٹکنے لگے ہیں اور ان قائدین کے ساتھ جیلوں میں بھی ہراسانی کا سلسلہ جاری ہے۔ سیول لبرٹیز کمیٹی نے ناگپور جیل میں غیرمجاز طور پر محروس پروفیسر سائی بابا کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ سرکاری اقدامات اور جیل و پولیس انتظامیہ کے خلاف پروفیسر سائی بابا گذشتہ چار دن سے بھوک ہڑتال پر ہیں اور پروفیسر سے اظہاریگانگت اور ان کی رہائی کیلئے سی ایل سی نے احتجاجی پروگرام منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سی ایل سی قائدین نے بتایا کہ پروفیسر سائی بابا جن کا تعلق مشرقی گوداوری سے ہیں، وہ بچپن ہی سے معذور ہیں اور پولیو کے سبب 90 فیصد معذور ہیں۔ تاہم سخت محنت اور تعلیم سے انہوں نے دہلی یونیورسٹی میں بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر ملازمت اختیار کرلی۔ تعلیمی، سماجی میدان اور انسانی حقوق کیلئے آواز بلند کرنے والے پروفیسر سائی بابا کو پولیس نے الزامات کے تحت گرفتار کرتے ہوئے انہیں غیرمجاز طور پر جیل میں محروس کردیا گیا اور انہیں ضمانت بھی نہیں دی جارہی ہے۔ سی ایل سی قائدین نے الزام لگایا کہ پولیس پروفیسر سائی بابا کی ضمانت میں رکاوٹ پیدا کررہی ہے۔ انہیں صحت کے لحاظ سے روزانہ 15 اقسام کی ادویات کا استعمال کرنا پڑتا ہے اور پرہیز ضروری ہے اور احتیاط نہ ہونے کے سبب پروفیسر کی صحت بگڑتی جارہی ہے۔ پروفیسر نے جیل حکام اور پولیس و حکومت کے رویہ کے خلاف جیل میں بھوک ہڑتال کا آغاز کردیا ہے۔
سی ایل سی تمام سیکولر افراد سے درخواست کی ہیکہ وہ پروفیسر کی رہائی کیلئے اٹھائی گئی آواز کا ساتھ دیں اور انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے اپنے تعاون کو پیش کریں۔