اندرا پارک پر 3 جون کو دھرنا دینے پیپلز آرگنائزیشن قائدین کا اعلان
حیدرآباد۔10(سیاست نیوز) پروفیسر جی سائی بابا کی غیر مشروط رہائی کے علاوہ ماوسٹ تنظیموں پر عائد امتناع کی برخواستگی کے علاوہ ماوسٹ سرگرمیوں کے خلاف جاری ملٹری آپریشن سے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی دستبرداری کا مطالبہ کرتے ہوئے جوائنٹ ایکشن فورم برائے پیپلز ارگنائزیشن کے قائدین نے 13جون کو اندرا پارک پر صبح دس تاشام پانچ بجے احتجاجی دھرنا منظم کرنے کااعلان کیا۔ آج یہاں ایک پریس کانفرنس کے دوران پروفیسر ہراگوپال‘ شریمتی سندھیا‘ راگھوناتھ رویندر چاری‘ پدما اور دیگر مجوزہ احتجاجی دھرنے کا پوسٹر بھی جاری کیا ۔ بعدا زاں ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے پروفیسر ہرا گوپال نے یو پی اے کے بعد این ڈی اے کے دور حکومت پر عوامی تحریکوں کے خلاف سازشیں رچنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہاکہ شعبہ تعلیم سے وابستہ ایک پروفیسر کو غیر قانونی طریقے سے گرفتار کرتے ہوئے مرکزی اور ریاستی انتظامیہ عوامی تحریکوں سے وابستہ سماجی جہدکاروں کے حوصلے پست کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ انہوں نے دہلی سے گرفتار کئے جانے والے پروفیسر جی سائی بابا کے ساتھ جیل میں مجرموں جیسے سلوک کی بھی سخت لفظوں میںمذمت کرتے ہوئے کہاکہ انڈہ نما بیارک میںسائی بابا کو محروس رکھا گیا ہے تاکہ دیگر سماجی جہدکاروں کے اندرو خوف دہشت پیدا کی جاسکے ۔ پروفیسرہرا گوپال نے کہاکہ ماوسٹوں کی تلاش کے نام پر عام زندگی کو متاثر کرنا غیر جمہوری عمل ہے جس کی روک تھام ضروری ہے ۔ انہوں نے رضاکارانہ تنظیموں کی جانب سے منعقد ہونے والے مجوزہ احتجاجی دھرنے کی بھر پورتائید وحمایت کی اور عوام سے بھی اس احتجاجی دھرنے میںشرکت کرنے کی اپیل کی۔ شریمتی سندھیا نے میڈیاسے بات کرتے ہوئے کہاکہ آپریشن گرین ہانڈ کے نام پر عام لوگوں پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہاکہ مودی انتظامیہ یوپی اے حکومت سے زیادہ بربریت کا مظاہرہ کررہا ہے جس کو برداشت نہیںکیا جائے گا۔ سندھیا نے سائی بابا کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے 13جون کو اندراپارک پر منعقد ہونے والے احتجاجی دھرنے کو کامیاب بنانے کی عوام سے اپیل کی۔