پرانے شہر کے کئی علاقوں میں ہنوز بچہ مزدوری کی لعنت برقرار

کم عمر بچوں کو کام کے لیے مجبور کرنا ، والدین کی مجبوری یا مالکین کی چالاکی
حیدرآباد ۔ 10 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : شہر حیدرآباد چند ہفتوں قبل بچہ مزدوری کے معاملہ عالمی ذرائع ابلاغ کی شہہ سرخیوں میں رہا چونکہ ساؤتھ زون پولیس کی جانب سے رات دیر گئے پرانے شہر کے علاقہ تالاب کٹہ میں کئے گئے آپریشن کے دوران پولیس نے سینکڑوں بچہ مزدوروں کو آزاد کروایا تھا جو کہ انتہائی ابتر حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور تھے اور پولیس کی اس کارروائی کی مختلف گوشوں کی جانب سے سراہنابھی کی گئی لیکن کیا یہ مسئلہ اب ختم ہوگیا ہے ؟ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے کی گئی اس کارروائی کے باوجود پرانے شہر کے کئی علاقوں میں آج بھی ہوٹل ، میکانک ، و دیگر مقامات پر بڑی تعداد میں بچہ مزدوری کروائی جارہی ہے اور اس پر کوئی عہدیدار کارروائی نہیں کررہا ہے بلکہ بعض مقامات پر نشاندہی کرنے کے باوجود یہ کہا جارہاہے کہ غریب کام کررہا ہے یار اسے کرنے دو ۔ جب کہ ہندوستانی قوانین کے مطابق معصوم بچوں سے کام لینا اور انہیں مزدوری پر رکھنا جرم ہے ۔ اس سنگین جرم کے مرتکب ہونے والوں کو اس بات کا اندازہ ہے کہ وہ کیا جرم کررہے ہیں لیکن انہیں یہ بھی یقین ہے کہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی ۔ شہر کی بیشتر ہوٹلوں کارخانوں اور میکانک کی دکانوں پر جو کم عمر بچے کام کرتے ہیں یقیناً وہ کسمپرسی کے باعث مزدوری پر مجبور ہوتے ہیں لیکن اس طرح بچوں سے یہ کام لینا ان کے بچپن کو ان سے چھیننے کے مترادف ہے ۔ پولیس کے علاوہ ضلع انتظامیہ کے ساتھ ساتھ محکمہ لیبر کے اعلیٰ عہدیداروں کو چاہئے کہ وہ اپنے ماتحتین کو اس بات کی ہدایت جاری کریں کہ وہ کسی بھی مقام پر بچہ مزدوری کے خلاف کارروائی سے گریز نہ کریں ۔ علاوہ ازیں محکمہ پولیس اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد متحدہ طور پر ضلع انتظامیہ کے تعاون سے منصوبہ بندی کرتے ہوئے شہر کے تمام کارخانوں و ہوٹلوں میں پوسٹرس آویزاں کریں اور شہریوں میں شعور اجاگر کرتے ہوئے ہیلپ لائن نمبرس کے علاوہ اعلیٰ عہدیداروں کے نمبر فراہم کئے جائیں تو شہر حیدرآباد کو بچہ مزدوری سے پاک شہر بنایاجاسکتا ہے ۔ اسی طرح شہر کے ہوٹل مالکین اور کارخانوں کے ذمہ داروں کو بھی اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ بچہ مزدوری سے پاک سماج کی تشکیل میں تعاون کرے ۔ ضلع انتظامیہ پر بھی اس بات کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بچہ مزدوری پر مجبور بچوں کے افراد خاندان کو معمولی روزگار کے ذرائع پیدا کرنے کے لیے آگے آئیں ۔ سرکاری اسکیمات میں موجود شرائط کی تکمیل کے جو خاندان متحمل نہیں ہوتے وہ ہی اپنے بچوں کو بچہ مزدوری کرواتے ہیں ۔ اسی لیے ضلع انتظامیہ کے دمہ دار عہدیداروں کو چاہئے بچہ مزدوری کرتے ہوئے پکڑے جانے والے بچوں کے افراد خاندان کو سہل انداز میں قرضہ جات کی فراہمی کو یقینی بنائے تاکہ اس مسئلہ کے حل کے ذریعہ بچہ مزدوری کا خاتمہ ممکن بنایا جاسکے ۔ شہر حیدرآباد میں صرف بیرون ریاست کے بچے ہی بچہ مزدوری نہیں کررہے ہیں بلکہ شہر کے سلم و پسماندہ علاقوں میں رہنے والے بچے بھی کام کرتے ہوئے گھر چلانے پر مجبور ہیں ۔۔