کئی علاقوں کے مکین تشویش کا شکار ، غریب خاندانوں کی شمولیت کو یقینی بنانے کی ضرورت
حیدرآباد۔18اگست(سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت کی جانب سے منعقد ہونے والے جامع سروے کے متعلق عوام میں پائی جانے والے بد گمانیوں کو دور کرنے کے لئے محکمہ بلدیہ کی جانب سے تین مرحلوں میںسروے منعقد کیا جارہا ہے جس کا آخری مرحلہ 19اگست کو تکمیل پائے گا۔ جبکہ 17اور 18اگست کو پیش آئے دومرحلوں میںبھی محکمہ بلدیہ کا عملہ شہریوں کو درپیش شکوک شبہات دور کرنے میںاب تک ناکام ہے بالخصوص پرانے شہر کی عوام میں بلدی عملے کی کوتاہیوں کا خراب اثر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ گریٹر حیدرآباد میں بلدیہ کی جانب سے بلدی حلقہ کی مناسبت سے ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ ہر بلدی حلقہ کے دوتا تین سو مکانات کے سروے کے لئے دوشمار کنندگان اور تین معاون شمار کنندگان کی ٹیم مختص کی گئی ہے جن میںبیشتر عملہ خود اپنے کام سے ناواقف ہے اور عوام کو درپیش دشواریوں میںمددگارثابت نہیںہورہاہے برخلاف اسکے 17اگست کے پہلے مرحلے میں شہریوں کو بلدیہ کی جانب سے جاری کردہ فارم فراہم کرنا تھا مگر دو مرحلوں کے اختتام تک بھی پرانے شہر کے کئے ایسے مکانات ہیں جہاں پر شمار کنندگان پہنچنے سے قاصر ہیں اُس پر ستم ظریفی یہ کہ حکومت کی جانب سے منعقد ہونے والے سروے میںمقامی سیاسی قائدین اور کارکنوں کا تعاون بھی بلدی عملے کو حاصل نہیں ہے۔ پرانے شہر کے بیشتر مکانات پر بلدی عملے کی جانب سے پہلے مرحلے کی تکمیل پر مبنی پرچیاں چسپاں کردی گئی ہیںجبکہ عوام کو اس کے متعلق کسی بھی قسم کی کوئی اطلاع ہے اور ناہی بلدی عملے کی جانب سے حسب اعلان فراہم کئے جانے والا فارم وصول ہوا ہے۔ محکمہ بلدیہ کی جانب سے اُردو زبان میں جاری کردہ فارم پر کرایہ کے مکان میںرہنے والے شہریوں کا زمرہ ہی ندارد ہے جبکہ پرانے شہر کی اکثریت کرایہ کے مکانوں میں زندگی بسر کرنے والے شہریوں پر مشتمل ہے۔تلنگانہ حکومت کی جانب سے منعقد ہونے اس سروے کا بنیادی مقصدتلنگانہ کی سطح غربت کا حقیقی اندازہ لگانا ہے تاکہ حکومت کی جانب سے مختص کئے جانے والے فلاحی اسکیمات ورقومات کو غریب اور حق داروں تک پہنچانا ہے ۔ مختلف سروے اور تحقیقات کے بعد تلنگانہ حکومت کو خدشہ ہے کہ کئی سرمایہ دار حکومت کی مفت طبی سہولتیںحاصل کرنے کے لئے سفید راشن کارڈکا استعمال کررہے ہیںجس کے سبب غریب شہری جو حقیقت میںسفید راشن کارڈ کے مستحق ہیں وہ حکومت کی فلاحی اسکیم سے محروم ہیں لہذا حکومت تلنگانہ کی یہ کوشش ہے کہ وہ سما گرا کٹمبا سروے2014کے ذریعہ غریب شہریوں کے حقیقی اعداد وشمار تک پہنچ سکے۔ عوامی فلاح وبہبود کے لئے سرگرم رضاکارانہ تنظیموں کے بشمول سفید راشن کارڈ اور الیکشن آئی ڈی کارڈ کے لئے پیروکاری کرنے والے تمام درمیانی ایجنٹوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوجاتی ہے کہ دونوں شہروں کے غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے تمام شہریوں کو سروے میںشامل کرنے کے لئے پوری طرح سے سرگرم ہوجائیں۔ بالخصوص پرانے شہر میں سروے کی کامیابی پرانے شہر کے غریب خاندانوں کے لئے یقینی طورپر فائدہ مند ثابت ہوگی۔