پرانے شہر کی تہذیب و ثقافت کے تحفظ پر چیف منسٹر سنجیدہ

بہت جلد پرانے شہر کا دورہ کرنے اور مسائل کا جائزہ لینے کا اعلان ، کے چندر شیکھر راؤ کا گورنر کے خطبہ مباحث پر خطاب

حیدرآباد۔/13جون، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ بہت جلد پرانے شہر کا دورہ کرتے ہوئے عوامی مسائل کا جائزہ لیں گے۔ وہ پرانے شہر کی ہمہ جہتی ترقی کیلئے ایک جامع منصوبہ پر عمل آوری کے حق میں ہیں۔ چندر شیکھر راؤ آج تلنگانہ اسمبلی میں گورنر کے خطبہ پر مباحث کا جواب دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے ارکان پارلیمنٹ اور اسمبلی کے ساتھ وہ پرانے شہر کا دور کریں گے اور عوام سے ملاقات کرتے ہوئے ان کے مسائل اور تکالیف کے بارے میں معلومات حاصل کریں گے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ وہ پرانے شہر میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ پرانے شہر کی تہذیب و ثقافت کے تحفظ کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے عوامی نمائندوں سے مشاورت کے ذریعہ ترقیاتی منصوبہ تیار کیا جائے گا۔ انہوں نے مسلم ارکان کو تیقن دیا کہ رمضان المبارک کے انتظامات کے سلسلہ میں 15یا 16جون کو اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس طلب کریں گے جس میں وہ خود شریک ہوں گے اور رمضان المبارک کے دوران بہتر سہولتوں کی فراہمی کو قطعیت دی جائے گی۔ کے سی آر نے کہا کہ رمضان المبارک ایک مقدس مہینہ ہے اور وہ اس مہینہ کا احترام کرتے ہیں۔ حکومت کی کوشش رہے گی کہ رمضان المبارک کے دوران عوام کو کسی قسم کی دشواری نہ ہو خاص طور پر برقی اور پانی کی سربراہی اور صفائی و صحت کے انتظامات پر توجہ دی جائے گی۔ بی جے پی ارکان کی توجہ دہانی پر چیف منسٹر نے مہانکالی یاترا اور گنیش چتورتھی کے لئے بھی بہتر انتظامات کا تیقن دیا۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ رمضان المبارک قریب ہے لہذا وہ پہلے جائزہ اجلاس طلب کررہے ہیں۔ دیگر تہواروں کے سلسلہ میں بعد میں اجلاس طلب کئے جائیں گے۔ چیف منسٹر نے شہر کو پینے کے پانی کی سربراہی کیلئے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ حیدرآباد کرشنا طاس کے تحت آتا ہے لہذا شہر کو کرشنا سے پانی کی سربراہی کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پالامور لفٹ اریگیشن پراجکٹ کے ذریعہ رنگاریڈی اور حیدرآباد کو پینے کے پانی کی سربراہی کا منصوبہ تیار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گوداوری سے پانی کی سربراہی کیلئے زائد فنڈز درکار ہیں جبکہ کرشنا سے باآسانی سربراہ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرشنا کا پانی جب چینائی کو سربراہ کیا جارہا ہے تو پھر حیدرآباد اس سے محروم کیوں ہے۔ کرشنا آبی ٹریبونل میں حیدرآباد کے پانی کے مسئلہ کی بھرپور نمائندگی کی جائے گی۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ مجلس بلدیہ حیدرآباد کے عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ جنگی خطوط پر برساتی نالوں کی صفائی کا کام انجام دیں تاکہ بارش کے آغاز کے بعد عوام کو دشواری نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں برقی، ڈرینج، برساتی نالوں اور دیگر بنیادی مسائل کی یکسوئی کے سلسلہ میں ماسٹر پلان تیار کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ بارش کے ساتھ ہی شہر کی اہم شاہراہوں پر پانی جمع ہوجاتا ہے حتیٰ کہ راج بھون اور دیگر وی آئی پی علاقوں میں بھی پانی کی نکاسی کا انتظام نہ ہونے کے سبب گاڑیوں کی آمدورفت متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے عہدیداروں سے کہا کہ وہ تلنگانہ کی نئی حکومت کو بدنامی سے بچانے کیلئے جنگی خطوط پر نالوں کی صفائی کا کام انجام دیں تاکہ بارش کا پانی عوام کیلئے مشکلات کا سبب نہ بنے۔