والدین کے ساتھ کونسلنگ کے بعد رہا، مہم جاری رکھنے کا عزم، ڈی سی پی ساؤتھ زون ستیہ نارائنا کا سخت انتباہ
حیدرآباد۔/23مئی، ( سیاست نیوز) پرانے شہر کی بگڑتی نوجوان نسل کو سنبھالنے کا ذمہ پولیس نے لے لیا ہے۔ رات دیر گئے تک چبوتروں پر بیٹھک ، گانا بجانا، کردار کشی اور رات کی تاریکی میں اپنے مستقبل کو تاریک بنانے میں مشغول بے حس نوجوانوں کو اب سٹی پولیس نے اپنے طریقہ سے سدھارنے کے اقدامات کا آغاز کردیا ہے۔ ’’ آپریشن لیٹ نائیٹ ‘‘ کے نام سے شروع کردہ اس مہم کے تحت پہلے دن پولیس نے 282نوجوانوں کو حراست میں لے لیا جو رات دیر گئے تک چبوتروں، گلی کوچوں اور چوراہوں کی زینت بنے ہوئے تھے۔ ڈپٹی کمشنر پولیس ساؤتھ زون مسٹر ستیہ نارائنا کی راست نگرانی میں آپریشن لیٹ نائیٹ کو جاری رکھا ہے۔ ساؤتھ زون پولیس کے اس اقدام کی سماج کے ہر گوشہ سے ستائش کی جارہی ہے اور پولیس کے اس اقدام کو شہریوں کی زبردست تائید حاصل ہے۔ وقار الدین اور اسکے ساتھیوں کی تدفین کے موقع پر اور اس کے بعد پولیس پر سنگ باری کے جو واقعات پیش آئے تھے اس موقع پر گرفتار کم عمر لڑکوں کے ساتھ پولیس کا رویہ ایک تاریخی اقدام تصور کیا جارہا تھا۔ جہاں دباؤ اور تنقیدوں کے باوجود ڈی سی پی ساؤتھ زون نے 35کمسن لڑکوں کو سنگین دفعات کے مقدمات کے تحت کارروائی کے بجائے انہیں کونسلنگ کرتے ہوئے رہا کردیا تھا۔ کل رات کے آپریشن کے بعد جو پرانے شہر کے مختلف علاقوں میں جاری تھا پولیس نے ان نوجوانوں کے سرپرستوں کی کونسلنگ کی بعد ازاں ڈپٹی کمشنر پولیس ساؤتھ زون مسٹر ستیہ نارائنا نے بتایا کہ نوجوان نسل میں بگاڑ کی ہر کوششوں کو پولیس ناکام کردے گی۔ انہوں نے بتایا کہ شہر کے 98فیصد نوجوان روشن مستقبل کی کوششوں میں جٹے ہوئے ہیں اور اس جانب اقدامات بھی کررہے ہیں۔ تاہم صرف 2فیصد ایسے ہیں جو راتوں میں گلی، چوراہوں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ یہ نوجوان طبقہ نہ صرف خود کے مستقبل بلکہ دیگر شہریوں، والدین اور لاء اینڈ آرڈر کے لئے بھی مسائل پیدا کررہے ہیں۔ تاہم پولیس نے فیصلہ کیا ہے کہ ان 2فیصد کو بھی 98 فیصد میں شامل کرلیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں کے والدین کو کونسلنگ کی گئی۔ انہیں اپنی ذمہ داری کا احساس دلایا گیا اور نوجوانوں کے سامنے والدین کی کونسلنگ سے بہتر نتائج کی پولیس کو امید ہے۔ڈی سی پی نے بتایا کہ اس طرح کی مہم جاری رہے گی۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں اس طرح کے اقدامات پر سیاسی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔ تاہم ڈی سی پی نے واضح طور پر کہہ دیا کہ پولیس سماج سدھار اقدامات اور نوجوان نسل کی تربیت اور شعور بیداری میں کسی بھی قسم کے دباؤ یا پھر رکاوٹ کو برداشت و قبول نہیں کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ رات کے وقت کے اجلاسوں، میٹنگس اور بیٹھکوں کے ذریعہ نوجوان نسل میں بگاڑ پیدا ہورہا ہے اور خواتین کے لئے تحفظ کے اقدامات بھی ماند پڑ رہے ہیں۔ پولیس ایسے کسی بھی اقدام کو جاری رہنے نہیں دے گی جو نوجوان نسل میں برائی کا سبب بننے والے عناصر کا تعاقب کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ملازمتوں کے علاوہ ہرمند مواقع فراہم کرنے کے اقدامات اور تربیت کا بھی ساؤتھ زون میں عنقریب آغاز کیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر پولیس ساؤتھ زون مسٹر بابو راؤ کی خصوصی دلچسپی سے آپریشن لیٹ نائیٹ کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔