پاکستان کے کئی اقدام ‘ پیشرفت کیلئے سازگار نہیں تھے

نئی دہلی 22 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) یہ واضح کرتے ہوئے کہ 25 اگسٹ کی مجوزہ ہند ۔ پاک معتمدین خارجہ سطح کی ملاقات ‘ بات چیت کا احیاء نہیں تھی ہندوستان نے آج کہا کہ بات چیت کو منسوخ کرنے کا فیصلہ پاکستان کے مسلسل ان اقدامات کے بعد کیا گیا ہے جو بات چیت کو آگے بڑھانے کیلئے سازگار نہیں تھے ۔ وزارت خارجہ کے ترجمان سید اکبر الدین نے کہا کہ جب حکومت ہند نے ایک فیصلہ کیا تھا اس نے کئی امور پر توجہ رکھی تھی تاہم اس نے ہر صورتحال کا جائزہ لیا ہے اور اس تعلق سے فیصلہ کیا گیا ہے ۔

سب سے پہلے یہ تو واضح ہونا چاہئے کہ ہم بات چیت نہیں کر رہے تھے ۔ ہم بات چیت کرنے والے تھے ۔ ایسے میں ہمرا احساس یہ ہے کہ یہ کوئی جامع اور با معنی مصروفیت نہیں تھی اور اس سے کوئی نتیجہ بھی اخذ ہونا مشکل تھا ایسی صورتحال اور ماحول میں اس بات چیت سے کوئی مقصد حل نہیں ہوسکتا تھا ۔ ایسے کئی کام کئے گئے ہیں جو پیشرفت کیلئے سازگار نہیں تھے ۔ ان سے سوال کیا گیا تھا کہ آیا ہند ۔ پاک معتمدین خارجہ سطح کی بات چیت اس صورت میں جاری رہ سکتی تھی جب جنگ بندی کی خلاف ورزی ہو رہی تھی اور دہشت گردانہ کارروائی ہو رہی تھی لیکن اس وقت جاری نہیں رہ سکتی جب پاکستان کشمیری علیحدگی پسندوں سے مشورہ کرے ۔ اس وسال پر کہ ہندوستان نے ماضی میں پاکستان اور حریت کے مابین ملاقاتوں کی اجازت کیوں دی تھی

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیں اعلی ترین سطح پر تیقن دیا تھا کہ وہ جموں و کشمیر پر ایک پر امن بات چیت کیلئے پابند ہے اور وہ پاکستان یا اس کی سرزمین کو ہندوستان کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال کی اجازت نہیں دیگا ۔ انہوں نے کہا کہ اب ہمیں معلوم ہے اور خاص طور پر ممبئی دہشت گرد حملوں کے بعد یہ واضح ہوگیا ہے کہ اس تیقن کے کوئی معنی نہیں ہے اور شملہ معاہدہ اور لاہور اعلامیہ میں جو طریقہ کار اختیار کیا گیا تھا اس سے مختلف موقف اختیار کیا جارہا ہے اور ان دونوں معاہدوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا ہے ۔ اس سوال پر کہ آیا ماہ ستمبر میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر نیویارک میں دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم نواز شریف اور نریندر مودی کے مابین ملاقات ہوسکتی ہے انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ ایسا تھا جس پر دونوں معتمدین خارجہ غور کرنے والے تھے لیکن اب دونوں ملکوں کے مابین بات چیت نہیں ہو رہی ہے ۔