اسلام آباد ۔ 21 اگست (سیاست ڈاٹ کام)پاکستان کے بحران میں شدت پیدا ہوگئی ہے ۔ عمران خان کے ساتھ حکومت کی بات چیت معطل کردی گئی ۔ نواز شریف نے پارلیمنٹ کے محاصرہ پر احتجاجیوں کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کے امکان کو مسترد کردیا ۔ عمران خان اور علامہ طاہر القادری کا احتجاج زور پکڑ رہا ہے ۔ پاکستان کے اپوزیشن لیڈر عمران خان نے آج اپنا موقف سخت کرتے ہوئے حکومت کے ساتھ مذاکرات سے دستبرداری اختیار کرلی اور عہد کیا کہ وہ اپنی جدوجہد تادم آخر جاری رکھیں گے، جو ظاہر طور پر سپریم کورٹ کی جانب سے جاریہ احتجاجوں سے لاتعلقی اختیار کئے جانے سے حوصلہ پاکر کیا گیا اقدام ہے۔
پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سربراہ علامہ طاہر القادری جن کے ہزاروں حامی عمران خان کے حامیوں کے ساتھ مل کر ریڈ زون میں جمع ہوئے ہیں جہاں اہم حکومتی عمارتیں بشمول پارلیمنٹ ہاؤس، پرائم منسٹر ہاؤس، پریسیڈنٹ ہاؤس، سپریم کورٹ کے علاوہ سفارتخانے قائم ہیں۔ پی اے ٹی جس کے قائدین نے کل حکومتی نمائندوں سے ملاقات کی تھی، آج انہوں نے کوئی تازہ بات چیت نہیں کی۔ عمران نے کل رات دیر گئے وزیراعظم نواز شریف کے مستعفی ہونے تک اپنے ’عدم بات چیت‘ کے موقف میں نرمی لائی۔ ان کی پارٹی کے قائدین کی ایک ٹیم نے حکومتی نمائندوں کے ساتھ بات چیت کی۔ اس دوران پاکستان سپریم کورٹ نے آج پارلیمنٹ کا محاصرہ کرنے والے احتجاجیوں کو ہٹانے کیلئے حکم نامہ کی اجرائی کے سلسلہ میں حکومت کی عرضی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتظامی معاملہ ہے اور اس سے قانون کی مطابقت میں نمٹا جانا چاہئے۔ عدالتی موقف سے حوصلہ پاکر عمران نے شریف حکومت کے خلاف اپنے رویہ میں سختی پیدا کرتے ہوئے اعلان کردیا کہ وہ وزیراعظم کے استعفیٰ تک حکومت سے بات چیت نہیں کریں گے۔