اسلام آباد ۔ 7 جنوری۔( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان نے آج مزید دو دہشت گردوں کو پھانسی پر لٹکادیا حالانکہ پاکستان کے اس اقدام کی مقامی اور عالمی سطح پر مذمت کی جارہی ہے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پشاور حملہ کے بعد جہاں درجنوں طلباء کو طالبان نے موت کے گھاٹ اُتار دیا تھا ، پاکستان نے سزائے موت پر عائد امتناع کو برخاست کرتے ہوئے یکے بعد دیگرے دہشت گردوں کو پھانسی پر لٹکانے کا سلسلہ جاری رکھا ہے جس کی تعداد اب 9 ہوچکی ہے ۔ پھانسی پانے والے دو دہشت گرد احمد علی عرف شیش ناگ اور غلام شبیر عرف فوجی عرف ڈاکٹر جن کا تعلق ایک ممنوعہ دہشت گرد تنظیم سے تھا ، کو آج صبح ملتان کی سنٹرل جیل میں پھانسی پر لٹکادیا گیا ۔ انگریزی اخبار ڈان کی رپورٹ کے مطابق احمد علی کو جو جھنگ ڈسٹرکٹ کے شورکوٹ سے تھا ، 1998 ء میں تین افراد کو ہلاک کرنے کی پاداش میں پھانسی دی گئی جبکہ غلام شبیر نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس انور خان اور اُن کے ڈرائیور غلام مرتضیٰ کو 2000ء میں بوہر گیٹ کے قریب ہلاک کردیا تھا۔
2002 ء میں انسداد دہشت گردی کی ایک خصوصی عدالت نے غلام شبیر کو سزائے موت سنائی تھی ۔ صدر کی جانب سے دونوں کی درخواست رحم مسترد ہونے کے بعد وارنٹس کی اجرائی عمل میں آئی تھی ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہوگا کہ پاکستان میں سزائے موت پر عائد امتناع برخاست کئے جانے کے بعد صدر ممنون حسین نے اب تک سزائے موت پانے والے 17 ملزمین کی درخواست رحم کو مسترد کردیا ہے حالانکہ اقوام متحدہ ، یوروپی یونین ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائیٹس واچ گروپ نے سزائے موت پر عمل آوری کے سلسلہ کو بند کرنے کی درخواست کی ہے لیکن پاکستان نے اُن درخواستوں پر کوئی غور و خوض نہیں کیا ۔ چھ ملزمین کو سابق فوجی ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو قتل کرنے کی کوشش کاقصوروار پایا گیا تھا اور پھانسی پر لٹکایا جاچکا ہے ۔ یاد رہے کہ پاکستان میں ایسے ملزمین کی تعداد 8000 ہے جو سزائے موت پر عمل آوری کے منتظر ہیں۔