اسلام آباد ۔ 18 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) پشاور حملہ کے تناظر میں حکومت پاکستان کا سزائے موت پر عائد امتناع کو برخاست کرنے کا فیصلہ ان 8261 قیدیوں کیلئے گلے کی ہڈی بن گیا ہے جو سزائے موت پر عمل آوری کے منتظر ہیں۔ یاد رہیکہ منگل کو طالبان نے ملٹری پبلک اسکول پر حملہ کیا تھا جس میں 132 طلباء اور اسٹاف کے 18 ارکان جاں بحق ہوگئے تھے۔ وزیراعظم نواز شریف نے سخت نوٹ لے کر ملک سے سزائے موت پر عائد امتناع کے قانون کو برخاست کردیا تاکہ خاطیوں کو سزائے موت دی جاسکے جس کا اطلاق زیادہ تر دہشت گردی سے مربوط جرائم کے مرتکبین پر ہوگا۔ اعداد و شمار کے مطابق 8261 قیدی ملک کی 5 جیلوں میں قید ہیں جنہیں سزائے موت پر عمل آوری کا انتظار ہے کیونکہ ان کو پھانسی پر لٹکائے جانے کے پورے انتظامات ہوچکے ہیں اور صرف حکومت کے اشارے کی دیر ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہیکہ 2004ء سے اب تک پاکستان میں تقریباً 235 قیدیوں کو سزائے موت دی گئی ہے جبکہ 2008ء کے بعد تو حیرت انگیز طور پر صرف کچھ ہی قیدیوں کو سزائے موت دی گئی کیونکہ اس وقت تک سزائے موت پر امتناع عائد کیا جاچکا تھا۔ دوسری طرف ایسے قیدیوں کی تعداد بھی 991 ہے جنہیں اشتہاری مجرم قرار دیا گیا ہے اور جنہیں سزائے موت سنائی گئی ہے لیکن وہ مفرور ہیں۔