پشاور ۔ 17ڈسمبر۔( سیاست ڈاٹ کام ) اندوہناک صدمہ سے دوچار پاکستان نے آج سے تین روزہ قومی سوگ کا آغاز کردیا۔ اس دوران ان 140 افراد کی تجہیز و تدفین عمل میں آئی جو گزشتہ روز پشاور کے ایک فوجی اسکول میں ایک انتہائی اور بربریت انگیز اور وحشت ناک طالبان خودکش حملہ میں جاں بحق ہوگئے تھے۔ ان میں 132 کمسن اسکولی طلبہ شامل تھے۔ سرحدی ریاست خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور میں اس قتل عام کے بعد تمام تعلیمی ادارے بند رہے۔ اس سانحہ نے نہ صرف پاکستان بلکہ ساری دنیا کو دہلاکر رکھ دیا ہے۔ پاکستان کا قومی پرچم سرنگوں کردیاگیا ہے ۔ وزیراعظم نواز شریف نے ملک بھر میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے ۔ البتہ ملک کے دیگر مقامات پر اسکولس بدستور کُھلے رہے جہاں پشاور واقعہ اور جاں بحق ہونے والے طلباء کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی ۔ دوسری طرف جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی میں موم بتیاں جلاکر مہلوکین کو خراج عقیدت پیش کی گئی۔ زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس وحشتناک واقعہ پر اظہار مذمت کیا ہے ۔
ملک کے سیاستداں بھی اب دہشت گردوں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ مہلوکین کی تدفین کا سلسلہ کل شب شروع ہوا جو آج بھی جاری رہے گا جہاں توقع ہے کہ ہزاروں افراد شرکت کریں گے۔ اس واقعہ کی تحریک طالبان کے حلیفوں نے بھی مذمت کی ہے جس نے حملہ کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔ دریں اثناء افغان طالبان ترجمان ذبیح اﷲ مجاہد نے کہا کہ اُن کا گروپ مہلوکین کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتا ہے ۔ یہاں یہ بات بھی حیرت انگیز ہے کہ پاکستان میں کئے جانے والے حملوں پر عسکریت پسندوں نے شاذ و نادر ہی کوئی بیان جاری کیا ہے ۔پاکستان طالبان کی قیادت کرنے والے ملا فضل اﷲ افغان طالبان کے سربراہ ملاعمر کو اپنا سپریم لیڈر تصور کرتے ہیں۔ دریں اثناء وزیراعظم نواز شریف بھی عسکریت پسندی سے نمٹنے موثر حکمت عملی کے موضوع پر تبادلہ خیال کیلئے سیاسی اور دفاعی ماہرین کا ایک اجلاس طلب کیا ہے ۔ریڈیو پاکستان کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم نے عہد کیا ہے کہ وہ معصوموں کا خون بہانے والے دہشت گردوں سے خون کے ایک ایک قطرے کا انتقام لیں گ