پاکستان اور افغانستان کے ہندوؤں اور سکھوں کو ہندوستانی شہریت

نئی دہلی۔/13نومبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) حکومت ہند نے آج پاکستان اور افغانستان سے پناہ گزین ہندوؤں اور سکھوں کے لئے متعدد مراعات کا اعلان کیا ہے جن میں انہیں ہندوستانی شہریت تفویض کرنے کیلئے ضوابط میں نرمی بھی شامل ہے۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اس تجویز کو منظور کیا جو ہندوستانی شہریت کیلئے دی گئی درخواستوں سے متعلق تھی جنہیں پاکستان اور افغانستان کے اقلیتی فرقوں کی جانب سے داخل کیا گیا ہے جس کا اطلاق ایسے ہندوؤں اور تنظیموں پر ہوگا جو 31ڈسمبر 2009 سے قبل ہندوستان آئے ۔ اس زمرہ میں ایسے درخواست کنندے جنہیں اپنی درخواستیں آن لائن داخل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے وہ اب شخصی طور پر اپنے پاسپورٹس کے ساتھ درخواستیں داخل کرسکتے ہیں ۔ البتہ اس کے لئے یہ شرط لگائی گئی ہے کہ شہریت کے لئے درخواست کے ادخال کے وقت درخواست کنندوں کا طویل مدتی ویزہ (LTV) کارکرد ہونا چاہیئے۔ درخواستو ں کا ادخال ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ، کلکٹر یا ڈپٹی کمشنر کے دفاتر میں داخل کیا جاسکتا ہے۔ رہنمایانہ خطوط کے مطابق ایسے پناہ گزینوں کے بچے جو اپنے والدین کے پاسپورٹ کی بنیاد پر ہندوستان میں داخل ہوئے وہ بغیر پاسپورٹ کے ہندوستانی شہریت کے لئے درخواست دینے کے اہل ہوں گے لیکن یہ اسی وقت ہوگا جب ان کی ہندوستان میں رہائش کو قطعیت حاصل ہوجائے گی۔

پناہ گزینوں کے ایسے بچے جو ہندوستان میں ہی پیدا ہوئے، وہ بھی ہندوستان میں ان کی رہائش کو قطعیت حاصل ہونے کے بعد بغیر پاسپورٹ کے ہندوستانی شہریت کے لئے درخواست داخل کرسکتے ہیں۔ ان بچوں کا متعلقہ ڈسٹرکٹ میں شہریت کو قطعیت دینے کے لئے فارینرس رجسٹریشن آفس(FRO) میں نام رجسٹرہونا لازمی ہے۔ وزیر داخلہ نے یہ اعلان اس پس منظر میں کیا ہے جہاں پاکستان اور افغانستان کے ہندوؤں اور سکھوں کو ہندوستانی شہریت کے حصول کیلئے درخواستوں کے ادخال میں انتہائی مشکلات کا سامنا ہے۔ یاد رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اپنی انتخابی ریالیوں میں وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ وزیر اعظم بننے میں کامیاب ہوگئے تو پاکستانی اور بنگلہ دیشی ہندوؤں کو ہندوستان میں دیگر شہریوں کے مساوی قراردیا جائے گا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی دلچسپ ہوگا کہ جودھپور، جیسلمیر، بیکانیر اور جے پور میں 400پاکستانی ہندو پناہ گزینوں کی آبادی ہے جبکہ متعدد سکھ پناہ گزین پنجاب ، دہلی، ہریانہ اور اُتر پردیش میں آباد ہیں۔ مجموعی طور پر ہندوستان میں پاکستان اور افغانستان کے اقلیتی پناہ گزینوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ ہے۔