اسلام آباد ۔ 20 اگست (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے اپوزیشن لیڈر عمران خان نے آج دھمکی دی کہ وزیراعظم نواز شریف کی رہائش گاہ پر ہلہ بول دیا جائے گا اور طاہرالقادری کے حامیوں نے پارلیمنٹ کا محاصرہ کرلیا ہے۔ ایوان کے اندر تمام ارکان محروس ہوگئے ہیں۔ استعفیٰ کے بڑھتے دباؤ کے درمیان نواز شریف نے عمران خان سے ملاقات کا فیصلہ کیا۔ ملک کو بچانے کیلئے تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے انقلاب کو روکنا ضروری ہے۔ وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ وزیراعظم کے ایک وفد نے عمران خان اور طاہرالقادری سے ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عمران خان نے میں چاہتا ہوں کہ تمام پاکستانی حکومت کی رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے وزیراعظم کی رہائش گاہ میں گھس جائیں۔ پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے ارکان اسلام آباد کے علاقہ آب پارہ سے پیشقدمی کرتے ہوئے ریڈ زون میں واقع پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے تھے۔ سیکوریٹی فورسیس نے اس مارچ کو روکنے کوئی مزاحمت نہیں کی۔ علامہ طاہرالقادری نے شاہراہ دستور پر پارلیمنٹ ہاوز کے سامنے ڈی چوک میں اپنے کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر اپنا یہ مطالبہ دہرایا ہیکہ شریف برادران مستعفی ہوجائیں، تمام اسمبلیاں تحلیل کردی جائیں اور ان کی جگہ قومی اتحاد کی حکومت قائم کی جائے جو وسیع تر اصلاحات کرے۔
’’پاکستانی فوج اقتدار پر قبضہ نہیں کرے گی ‘‘
اسلام آباد ۔ 20 اگست (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان میں سیاسی صورتحال گزشتہ ایک ہفتے سے انتہائی کشیدہ ہے۔ اس دوران وزیراعظم نواز شریف کے ایک وفد کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے منعقدہ ملاقات پر حکومتی حلقوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ نام خفیہ رکھنے کی شرط پر ایک حکومتی عہدیدار نے خبر رساں ادارہ روئٹرز کو بتایا کہ فوج نے وزیر اعظم نواز شریف کو ان کی حکومت نہ گرانے کی یقین دہانی کرائی ہے اور فوج کا اقتدار میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ بیان کے مطابق فوج چاہتی ہے کہ حکومت سیاسی مسائل کو خود حل کرتے ہوئے اپنے 5 سال پورے کرے۔ تاہم دوسری جانب فوج نے شریف انتظامیہ سے کہا ہیکہ بدلے میں وہ عسکری قوتوں کے ساتھ بھرپور انداز میں تعاون بھی کرے۔
پاک سپریم کورٹ میں عمران ،طاہرالقادری کی آج طلبی
اسلام آباد ۔20 اگست (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ آف پاکستان نے ممکنہ ماورائے آئین اقدام سے متعلق کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کل عدالت میں طلب کرلیا۔ملتان ہائیکورٹ بارکی درخواست پر سکریٹری قانون، سکریٹری وزارت داخلہ کو بھی نوٹس جاری کردیئے گئے۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں 4رکنی وسیع تر بنچ درخواست کی سماعت کررہی ہے۔ جسٹس جواد خواجہ نے سماعت کے دوران ریمارکس کئے کہ حکومت کو ہٹانے کا آئین میں طریقہ کار دیا گیا،اس کے علاوہ حکومت کو ہٹانے کا طریقہ انتشار اور انارکی ہے۔