پاکستانی فوج کے فضائی حملوں میں 21 عسکریت پسند ہلاک

اسلام آباد۔ 12؍اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ پاکستانی لڑاکا جیٹ طیاروں نے آج شورش زدہ قبائیلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر جو افغانستان کی سرحد سے متصل ہیں، بمباری کرکے کم از کم 21 عسکریت پسندوں کو ہلاک کردیا۔ خیبر قبائیلی علاقہ میں 3 خفیہ ٹھکانے تباہ کردیئے گئے۔ اس حملہ میں کم از کم 10 عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔ فوج کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک اور حملہ میں جیٹ طیاروں نے عسکریت پسندوں کے دو خفیہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور دتاخیل گاؤں میں جو شمالی وزیرستان کے علاقہ میں ہے،

11 عسکریت پسند ہلاک کردیئے گئے۔ پاکستان کی فوج نے شمالی وزیرستان میں وسط جون سے ضرب عضب شروع کررکھا ہے جس میں تاحال 1100 عسکریت پسند ہلاک ہوچکے ہیں۔ شمالی وزیرستان سے تقریباً 10 لاکھ افراد فرار ہوکر پناہ گزین کیمپوں میں مقیم ہیں۔ ایک اور خبر کے بموجب افغانستان کی سرحد سے متصل علاقہ میں دو علیحدہ ڈرون حملوں میں کم از کم 8 عسکریت پسند بشمول ایک القاعدہ لیڈر ہلاک ہوگئے۔ پہلا ڈرون حملہ چنچارانوکنڈا علاقہ میں وادیٔ تراہ خیبر قبائیلی علاقہ میں ایک عمارت پر کیا گیا۔ دو میزائل داغے گئے جن سے کم از کم 4 عسکریت پسند بشمول القاعدہ کی جنوبی ایشیاء کی شاخ کا ایک اہم رکن ہلاک ہوگیا۔ ایمن الظواہری نے حال ہی میں برصغیر پر اپنی توجہ مرکوز کی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں افغان طالبان اور القاعدہ کے اہم رکن شیخ عمران علی صدیقی عرف حاجی شیخ ولی اللہ ہلاک ہوگئے۔ افغان طالبان کے ترجمان اسامہ محمود نے ان کی موت کی توثیق کردی۔ ڈرون حملہ سے گروپ کے دیگر ارکان بھی ہلاک ہوئے جو ڈرون طیاروں سے میزائلس کی بوچھار کے دوران پہاڑی پر موجود تھے۔ صدر القاعدہ برائے برصغیر مولانا اسیم عمر نے کہا کہ ہم اپنی زندگیاں مسلمانوں کی جان و مال کی حفاظت کے لئے نذر کررہے ہیں۔ سمجھا جاتا ہے کہ کثیر تعداد میں عسکریت پسند فرار ہوکر وادیٔ تراہ میں پہنچ چکے ہیں۔ دوسرے ڈرون حملہ میں شمالی وزیرستان کے علاقہ شاول میں ایک گاڑی پر حملہ کیا گیا جس میں پاکستانی طالبان کے ارکان سفر کررہے تھے۔

اس حملہ میں تمام ارکان ہلاک ہوگئے۔ پاکستانی فوج نے زمینی کارروائی کرتے ہوئے دیہی دفاعی کمیٹی کے ایک رکن کے شمال مغربی خیبر پختون خواہ میں قتل کی انتقامی کارروائی کے طور پر 3 عسکریت پسندوں کو گولی مارکر ہلاک کردیا جنھوں نے دیہی دفاعی کمیٹی کے رکن ایوب خان کے مکان پر حملہ کرکے انھیں گولی مارکر ہلاک کردیا تھا۔ اس واقعہ کے فوری بعد فوج نے تلاش کارروائی شروع کردی اور حملہ آوروں کا پتہ چلایا۔ چار باغ کے علاقہ میں فائرنگ کا تبادلہ عمل میں آیا جس میں تینوں حملہ آور ہلاک ہوگئے۔ وادیٔ سوات کو فوج نے باغی سردار ملا فضل اللہ اور ان کے طالبان جنگجوؤں کو دہشت گردی کے خلاف اپنی دو سالہ مہم میں شکست دے کر اس وادی کو عسکریت پسندوں سے پاک کردیا ہے۔ گزشتہ سال حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملہ میں ہلاکت کے بعد ملا فضل اللہ کو سردار مقرر کیا گیا تھا۔