پاکستانی شخص کو برطانیہ پر مقدمہ کی اجازت مل گئی

لندن۔ 20 نومبر۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) ایک برطانوی جج نے پاکستان کے یونس رحمت اللہ کو برطانیہ کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کی اجازت دے دی۔2004ء میں اپنے ایک دوست کے ہمراہ زیارت کیلئے عراق میں موجود رحمت اللہ کو برطانوی فوج نے زیر حراست لینے کے بعد افغانستان میں امریکی حکام کے حوالے کر دیا تھا۔وہ دس سال تک زیر حراست رہنے کے بعد رواں سال رہا ہوئے ہیں۔ ان دنوں پاکستان میں موجود رحمت اللہ نے الزام لگایا ہے کہ انہیں عراق اور افغانستان میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ برطانوی وزارت دفاع کی دلیل تھی کہ برطانوی عدالتیں امریکی فوج کی سرگرمیوں سے متعلق کوئی کیس نہیں سن سکتیں۔ تاہم، جج جارج لیگاٹ نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ اس دلیل کی بنا ء پر کسی برطانوی عدالت کا مقدمہ ہی نہ سننا ’آئینی ذمہ داریوں سے رو گردانی‘ ہے۔ فیصلہ میں برطانوی فوجیوں کی جانب سے تین عراقی شہریوں پر مبینہ تشدد پربھی تشویش ظاہر کی گئی۔ گزشتہ ماہ بھی ایک برطانوی عدالت نے لیبیا کے سیاست دان کو برطانوی حکومت پر مقدمہ دائر کرنے کی اجازت دی تھی۔ اس سیاست دان کا دعویٰ تھا کہ برطانیہ نے سی آئی اے کے ساتھ مل کر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔ برطانوی حکام نے اس مقدمہ میں بھی وہی دلیل دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ معاملہ میں امریکہ کا نام آنے کی وجہ سے برطانوی عدالتیں یہ کیس نہیں سن سکتیں۔