داخلی اُمور میں مداخلت ناقابل قبول ، سکریٹری سجاتا سنگھ کا واضح پیام ۔ پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کی علحدگی پسند قائدین سے آج بھی مشاورت
نئی دہلی ۔ 18 اگست ۔ ( سیاست ڈاٹ کام )پاکستان کی کشمیری علحدگی پسندوں سے مشاورت پر برہم ہندوستان نے آئندہ ہفتے معتمدین خارجہ کی مجوزہ بات چیت کو منسوخ کردیا ۔ ہندوستان کا یہ موقف ہے کہ ہند ۔ پاک مذاکرات سے عین قبل پاکستان نے دانستہ طورپر علحدگی پسندوں سے بات چیت کا پروگرام رکھا ہے ۔ باہمی مذاکرات جو پہلے تعطل کا شکار تھے ، ان کے احیاء کی کوششوں کو آج ڈرامائی طورپر دھکہ پہونچا ۔ پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کے علحدگی پسند حریت قائدین سے مشاورت پر ہندوستان نے اعتراض کرتے ہوئے 25 اگست کو اسلام آباد میں منعقد شدنی یہ بات چیت منسوخ کردی ہے ۔ علحدگی پسند لیڈر شبیر شاہ کے پاکستانی مشن پہونچنے سے عین قبل معتمد خارجہ سجاتا سنگھ نے عبدالباسط کو فون کیا اور کہا کہ پاکستان واضح طورپر ہندوستان کے داخلی اُمور میں مداخلت کررہا ہے جو ناقابل قبول ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ پاکستانی ہائی کمشنر کی ان نام نہاد حریت قائدین سے بات چیت کے ذریعہ وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے عہدہ سنبھالنے کے پہلے دن شروع کی گئی تعمیری سفارتی کوششوں کی اہمیت کو کم کیا گیا ہے ۔ وزارت اُمور خارجہ کے سرکاری ترجمان سید اکبرالدین نے کہا کہ مئی میں نریندر مودی نے اقتدار سنبھالتے ہی مثبت پہل کی تھی لیکن اس کی نفی کی گئی ہے ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ سجاتا سنگھ جو 24 اگست کو اسلام آباد پہونچنے والی تھی ہائی کمشنر سے کہا کہ آپ ہندوستان یا پھر علحدگی پسندوں سے بات چیت کرسکتے ہیں۔چونکہ عبدالباسط نے شبیرشاہ سے ملاقات جاری رکھی اور وہ دیگر علحدگی پسند قائدین سے بھی کل ملاقات کرنے والے ہیں چنانچہ ہندوستان نے مذاکرات کی منسوخی کا اعلان کردیا۔ مئی میں وزیراعظم نریندر مودی اور اُن کے پاکستانی ہم منصب نواز شریف نے دو سال سے تعطل کا شکار باہمی مذاکرات کے احیاء کا فیصلہ کیا تھا۔ ترجمان نے بتایا کہ ہندوستانی معتمد خارجہ نے آج پاکستانی ہائی کمشنر کو واضح پیام دیدیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ہندوستان کی شرائط سے بھی واقف کرادیا ۔ یہ بھی بتادیا گیا ہے کہ پاکستان کی ہندوستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی کوششیں ناقابل قبول ہیں۔ انھوں نے کہاکہ ایک ایسے وقت جب کہ حکومت ہند نے باہمی مذاکرات کو آگے بڑھانے کے مقصد سے سنجیدہ پیشرفت کی ہے ، نام نہاد حریت قائدین کو پاکستانی ہائی کمشنر کی جانب سے دعوت پاکستان کی سنجیدگی کے بارے میں کئی سوالات کھڑے کرتی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ تمام باہمی مسائل کی یکسوئی کا واحدراستہ یہی ہے کہ شملہ معاہدہ اور لاہور اعلامیہ کے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے پرامن باہمی مذاکرات کئے جائیں ۔ چنانچہ موجودہ حالات میں ایسا لگتا ہے کہ ہندوستانی معتمد خارجہ کا مجوزہ دورہ اسلام آباد بے مقصد ہوگا ۔ اسلام آباد میں اس بات چیت سے قبل عبدالباسط نے کشمیر سے علحدگی پسند قائدین کو مشاورت کی دعوت دی تھی ۔ اس دوران لائن آف کنٹرول پر پاکستانی فوج کی جنگ بندی کی خلاف ورزی کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پڑوسی ملک کی مسلح فورسیس مجوزہ معتمدین خارجہ سطح کی بات چیت کو ناکام بنانے کوشاں ہیں۔ اس تازہ پیشرفت کے نتیجہ میں دونوں ممالک کے مابین تجارتی مذاکرات کے احیاء کے تعلق سے غیریقینی کیفیت پیدا ہوگئی ہے ۔ لائن آف کنٹرول پر تشدد کے واقعات میں اضافہ کے بعد گزشتہ سال باہمی تجارتی مذاکرات معطل کردیئے گئے تھے ۔ ہندوستانی تجارتی گروپ نے تازہ پیشرفت کو نامناسب قرار دیا اور دونوں ممالک سے خواہش کی کہ وہ تجارتی روابط کو بحال کرنے کا عمل تیز کریں۔ اشوکام سکریٹری جنرل ڈی ایس راوت نے کہا کہ باہمی تجارتی روابط معمول پر لائے جانے چاہئے ۔ سی آئی آئی ڈائرکٹر جنرل چندرجیت بنرجی نے کہاکہ باہمی تجارت کو بہتر بنانے کیلئے محفوظ و سازگار ماحول ضروری ہے ۔ اس دوران اعتدال پسند حریت کانفرنس کے ترجمان نے بتایا کہ میر واعظ عمر فاروق کل پاکستانی ہائی کمشنر سے ملاقات کریں گے ۔ انھوں نے کہاکہ مشاورت کا یہ عمل مسئلہ کشمیر کی مذاکرات کے ذریعہ یکسوئی کا ایک حصہ ہے ۔ سخت گیر حریت کانفرنس لیڈر سید علی شاہ گیلانی بھی کل نئی دہلی پہونچ رہے ہیں جہاں وہ عبدالباسط سے ملاقات کریں گے۔ جے کے ایل ایف ترجمان نے بتایا کہ محمد یسین ملک کل دہلی میں موجود رہیں گے اور ملاقات کا امکان ہے ۔