تلگو دیشم کے فیصلہ میں ہماری منظوری شامل نہیں۔ ونود کمار ایم پی کا استدلال
حیدرآباد ۔ 18 ۔ جولائی (سیاست نیوز) نریندر مودی حکومت کے خلاف تلگو دیشم کی تحریک عدم اعتماد پر ٹی آر ایس پارٹی کا رویہ غیر واضح دکھائی دے رہا ہے۔ پارٹی کے رکن پارلیمنٹ بی ونود کمار نے آج اس بات کا اشارہ دیا کہ ان کی پارٹی سے اجازت کے بغیر تلگو دیشم نے تحریک عدم اعتماد پیش کردی۔ ونود کمار نے تحریک کی تائید یا مخالفت کے بارے میں کچھ بھی کہنے سے انکار کردیا ۔ ٹی آر ایس کے رویہ سے ظاہر ہورہا ہے کہ لوک سبھا میں تحریک عدم اعتماد کے موقع پر پارٹی ووٹنگ میں حصہ نہیں لے گی ۔ ونود کمار نے آج دہلی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تلگو دیشم تحریک عدم اعتماد پیش کرے یا نہ کرے اس سے ہمیں کوئی تعلق نہیں۔ آندھراپردیش کو جو تیقنات دیئے گئے تھے ، ان پر عمل آوری کا ہم مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کس سے پوچھ کر پیش کی گئی اور کیوں پیش کی گئی۔ تلگو دیشم اس کی کیا وجوہات بیان کرے گی ۔ ان تمام امور کا جائزہ لیتے ہوئے ہم مباحث میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے پہلے دن تعلیم سے متعلق بل کو منظوری حاصل ہوئی ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں نے پارلیمنٹ کی کارروائی بہتر انداز میں چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں آج جو ماحول تھا ، وہ امید کرتے ہیں کہ آئندہ 18 دن تک یہی ماحول برقرار رہے گا اور باقی بلز کو منظوری حاصل ہوگی۔ ہر بل پر ٹی آر ایس بحث میں حصہ لیتے ہوئے اپنا موقف اور تجاویز پیش کرے گی۔ ونود کمار نے کہا کہ تلنگانہ ریاست سے متعلق امور پر توجہ دلائی جائے گی۔