پابندیوں کے باوجود لشکر طیبہ کو خاطرخواہ فنڈز کا حصول افسوسناک

اقوام متحدہ ۔ 20ڈسمبر۔( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستان نے آج کہا کہ لشکر طیبہ جیسے دہشت گرد گروپس ’’تازہ ہواؤں اور پیار محبت کے ماحول میں اپنی زندگی بسر نہیں کرسکتے ۔ یہ امر بھی انتہائی افسوسناک ہے کہ اقوام متحدہ کی پابندیوں کے باوجود ایسی دہشت گرد تنظیموں کو فنڈز موصول ہورہا ہیں۔ عالمی ادارہ پہلے ہی واضح کرچکا ہے کہ دہشت گردوں کی مالیاتی شہ رگ ( فنڈز ) کو بالکلیہ طورپر مسدود و منقطع کردیا جائے‘‘۔ ہندوستان نے اس بات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا کہ منشیات کی اسمگلنگ ، قزاقی، اغواء برائے تاوان اور جبری وصولی جیسے غیرقانونی ذرائع سے بھی دہشت گرد گروپوں کو مالی امداد حاصل ہورہی ہے ۔

حیالانکہ دہشت گرد تنظیمیں ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی امتناع کی فہرست میں شامل ہیں۔ حتٰی کہ ان کے کارندوں کیخلاف سفری پابندیاں بھی عائد ہیں اور اُن کے کھاتے منجمد کئے جاچکے ہیں۔ اقوام متحدہ میں ہندوستان کے کارگذار مستقل مندوب بھاگوت بشنوئی نے دہشت گردی اور سرحد پار جرائم پر سلامتی کونسل میں جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ’’امتناع کی فہرست میں شامل دہشت گرد گروپوں کو فنڈز کی فراہمی مسدود کی جانی چاہئے لیکن بدبختی سے کبھی بھی ایسا نہیں ہوا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ لشکر طیبہ نے اس سال مئی میں افغان شہر ہیرات میں ہندوستانی قونصل خانہ کو حملہ کا نشانہ بنایا حالانکہ بہت پہلے سے اس دہشت گرد گروپ پر پابندی عائد تھی ۔ مسٹر بھاگوت بشنوئی نے کہا کہ افغانستان میں طالبان اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں منشیات کی کاشت کے ذریعہ بے پناہ دولت بٹور رہے ہیں۔

ہندوستانی مستقل مندوب نے کہاکہ بوکو حرام ، القاعدہ اور طالبان اور ان تنظیموں کے گنہگار سرغنے یہ واضح کرچکے ہیں کہ دہشت گردی اور سرحد پار جرائم میں زبردست گٹھ جوڑ ہے جس کے تصادم میں شدت پیدا ہورہی ہے ۔ ایسے واقعات مسائل کی یکسوئی کو روک رہے ہیں اور افراتفری میں اضافہ کررہے ہیں۔ مسٹر بھاگوت بشنوئی نے کہاکہ دہشت گردی کی سرکوبی کی کوششیں اُس وقت تک ثمرآور نہیں ہوسکتیں تاوقتیکہ ساری بین الاقوامی برادری بہتر حکمرانی کے لئے متحد نہ ہوجائے ۔ پاکستان کے مستقل مندوب صاحبزادہ احمد خاں نے کہا کہ دہشت گردی کی لعنت کے خلاف اپنی لڑائی میں حکومت پاکستان یقینا کامیاب ہوگی اور دہشت گردوں کو ان کی محفوظ پناہ گاہوں سے باہر نکال کر کیفرکردار تک پہونچایا جائے گا ۔ 15 رکنی سلامتی کونسل نے بعد ازاں متفقہ طورپر ایک قرارداد منظور کرلی جس میں دہشت گرد گروپوں کو غیرقانونی سرگرمیوں اور ذرائع سے حاصل ہونے والے فنڈز پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ سلامتی کونسل نے دہشت گردی کیخلاف لڑائی کیلئے بہتر حکمرانی کی ضرورت پر زور دیا۔