چندرا بابو نائیڈو حوصلہ افزائی نہ کریں، ٹی آر ایس ارکان مقننہ کا بیان
حیدرآباد ۔ 21 ۔ جون (سیاست نیوز) ٹی آر ایس ارکان مقننہ کے پربھاکر ، ایس راجو اور ویویکانند گوڑ نے تلگو دیشم کے آندھرائی قائد ٹی جی وینکٹیش کو متنبہ کیا کہ وہ حیدرآباد میں مقیم تلگو عوام کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوشش سے باز آئیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ارکان مقننہ نے کہاکہ تلنگانہ تحریک کے دوران حیدرآباد میں مقیم کسی بھی آندھرائی شخص کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔ کسی شخص کو نقصان پہنچائے بغیر جمہوری اور پرامن تحریک کے ذریعہ تلنگانہ ریاست حاصل کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ تلگو دیشم کے رکن راجیہ سبھا ٹی جی وینکٹیش نے تلنگانہ کے ساتھ اپنی نفرت کا پھر ایک مرتبہ مظاہرہ کیا ہے۔ تلنگانہ کی ترقی کو برداشت نہیں کرپا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کرنے کیلئے عوام کے درمیان نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آندھرائی قائدین مرکز سے اپنا حق حاصل کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ مرکز سے جدوجہد میں ناکامی سے بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر تلنگانہ کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ارکان مقننہ نے ٹی جی وینکٹیش کو مشورہ دیا کہ وہ اشتعال انگیز بیان بازی سے گریز کریں ۔ تلنگانہ کی مخالفت کرتے ہوئے آندھرائی قائدین نے کہا تھا کہ تلنگانہ تشکیل پانے کی صورت میں حیدرآباد خالی ہوجائے گا لیکن آج صورت حال بدل چکی ہے۔ گنٹور اور وجئے واڑہ خالی ہورہے ہیں جبکہ حیدرآباد میں مقیم تلگو عوام بدستور رہائش پذیر ہیں۔ کے پربھاکر نے چیف منسٹر آندھراپردیش چندرا بابو نائیڈو کی جانب سے ٹی جی وینکٹیش جیسے قائدین کی حوصلہ افزائی پر افسوس کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ٹی جی وینکٹیش اپنی اشتعال انگیزی کے ذریعہ تلنگانہ کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ پربھاکر نے کہا کہ چیف منسٹر اور حکومت کے خلاف ٹی جی وینکٹیش کی بیان بازی کا ٹی آر ایس موثر انداز میں جواب دینا جانتی ہے لیکن ٹی آر ایس کو تشدد کے بجائے امن پر یقین ہے ۔ آندھراپردیش کے عوام خود ٹی جی وینکٹیش کو سبق سکھائیں گے ۔ ارکان مقننہ نے کہا کہ اگر چندرا بابو نائیڈو ٹی جی وینکٹیش کی زبان پر قابو پانے میں ناکام رہیں تو دونوں ریاستوں کے تعلقات متاثر ہوں گے۔ خوشگوار روابط کیلئے اس طرح بیان بازی پر روک لگائی جانی چاہئے ۔