ٹی ایس آر ٹی سی کی ملکیت کو خانگی کمپنیوں کے حوالے کرنے کی منصوبہ بندی

آر ٹی سی پر رئیل اسٹیٹ ڈیلر کے طرز پر کام کرنے کا الزام ، سی پی آئی قائد ایم سرینواس کا ردعمل
حیدرآباد۔23جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی جانب سے کارپوریشن کی ملکیت والی جائیدادوں کو بی او ٹی اساس پر خانگی کمپنیوں کے حوالے کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ ٹی ایس آر ٹی سی نے آمدنی میں اضافہ کے منصوبہ کے تحت ابتدائی طور پر شہر حیدرآباد و سکندرآباد کے علاوہ جی ایچ ایم سی حدود میں موجود کارپوریشن کی جائیدادوں کو 33سال تک کی لیز پر دینے کا منصوبہ تیار کیا ہے اور اس منصوبہ کے تحت آر ٹی سی کی کھلی اراضیات خانگی کمپنیوں کے حوالہ کی جائیں گی جہاں خانگی کمپنیاں کمرشیل کامپلکس تعمیر کرتے ہوئے 33سال تک اس کا کرایہ حاصل کریں گی اور 33سال کا معاہدہ ختم ہونے کے بعد تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کو واپس حوالہ کردی جائیں گی۔بتایاجاتا ہے کہ آر ٹی سی کو ہورہے خسارہ سے نمٹنے کے لئے حکام نے جو منصوبہ تیار کیا ہے اس کے مطابق تجرباتی اساس پر شہر اور شہری حدود میں موجود اراضیات کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں لیز پر دینے کی تجویز حکومت کو پیش کی جائے گی اور اس تجربہ میں کامیابی کی صورت میں ریاست کے دیگر اضلاع میں بھی اس پر عمل آوری کو یقینی بنایا جائے گا۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے آر ٹی سی کی کارکردگی پر عدم اطمینان و برہمی کے اظہار کے بعد عہدیداروں کی جانب سے تیار کردہ اس منصوبہ کے متعلق ملازمین میں شدید برہمی پائی جاتی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اگر کارپوریشن کی جانب سے اس طرح کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں کارپوریشن کی ملکیت والی اراضیات پر خانگی مالکین بن جائیں گے اور یہ جائیدادیں خانگی ملکیت میں تبدیل ہوجائے گی۔ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی جائیدادوں کو ترقی دیتے ہوئے کارپوریشن کی آمدنی میں اضافہ کو ہی اگر یقینی بنانا ناگزیر ہے تو ایسی صورت میں کارپوریشن کو خود ان کھلی اراضیات کی ترقی کے اقدامات کرنے چاہئے ۔ سٹی جنرل سیکریٹری کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ کامریڈ ایم سرینواس نے کہا کہ ٹی ایس آر ٹی سی کی جانب سے جو منصوبہ تیار کیا جا رہاہے اس منصوبہ کا جائزہ لینے سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ٹی ایس آر ٹی سی رئیل اسٹیٹ ڈیلر کی طرح کام کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ انہو ںنے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں حکومت کی ناکام پالیسیوں کے سبب تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن خسارہ کا شکار ہے اس کے لئے کارپوریشن کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کارپوریشن کی اراضیات حاصل کرنے کی کوشش کرنا درست نہیں ہے۔ انہوںنے بتایا کہ آر ٹی سی کی جائیدادیں بس مسافرین کی سہولت کیلئے ہیں اور ان کا استعمال بس مسافرین کو اعلی معیاری سہولتوں کی فراہمی کیلئے ہی ہونا چاہئے ۔