ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ کی آج مرکزی وزیر داخلہ سے ملاقات

حیدرآباد ۔ 20 ۔ اگست (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ ونود کمار نے کہا کہ حیدرآباد میں لاء اینڈ آرڈر کے مسئلہ پر گورنر کو زائد اختیارات کی تجویز پر مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے کل 21 اگست کو نمائندگی کی جائے گی۔ ونود کمار نے کہا کہ پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ کا ایک وفد جمعرات کو 11 بجے دن راج ناتھ سنگھ سے ملاقات کرے گا اور مرکز کی تجویز کی مخالفت کی جائے گی ۔ ونود کمار نے بتایا کہ پارلیمنٹ میں اس مسئلہ پر ٹی آر ایس کے احتجاج کے بعد مرکزی وزیر داخلہ نے ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات کی خواہش کی تاکہ اس مسئلہ پر شبہات کو دور کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کو اس بات سے واقف کرایا جائے گا کہ گورنر کو زائد اختیارات آندھراپردیش تنظیم جدید بل 2014 میں شامل نہیں ہے، لہذا حیدرآباد پر گورنر کو اختیارات کی فراہمی عوامی منتخبہ حکومت اختیارات کو سلب کرنا ہے۔ حالیہ برسوں میں ملک میں جو نئی ریاستیں قائم ہوئی ہیں، ان میں لاء اینڈ آرڈر ریاستی حکومت کے تحت رکھا گیا۔

حیدرآباد دس برسوں تک مشترکہ دارالحکومت کے بہانہ لاء اینڈ آرڈر گورنر کو تفویض کرنا دستور کے مغائر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آندھراپردیش حکومت کے اشارہ پر مرکز اس طرح کی تجاویز پیش کر رہا ہے جو کہ تلنگانہ حکومت کیلئے ہرگز قابل قبول نہیں۔ ونود کمار نے بتایا کہ ٹی آر ایس ارکان پارلیمنٹ اس مسئلہ پر راج ناتھ سنگھ کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مرکز اپنی تجویز کو آگے بڑھاتا ہے تو حکومت قانونی لڑائی کی تیاری کرے گی۔ ٹی آر ایس رکن پارلیمنٹ نے بتایا کہ مرکزی وزیر داخلہ کو کھمم کے 7 منڈلوں کو آندھراپردیش میں ضم کئے جانے کے مسئلہ پر تلنگانہ حکومت کے موقف سے آگاہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 7 منڈلوں کا انضمام ان علاقوں میں بسنے والے قبائلی عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔ قبائلی عوام چاہتے ہیں کہ وہ تلنگانہ کا حصہ برقرار رہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پولاورم پراجکٹ کی تعمیر کے مسئلہ پر 7 منڈلوں کے انضمام کے خلاف حکومت عدالت سے رجوع ہوگی۔ ونود کمار نے تلنگانہ میں کئے گئے جامع سماجی سروے کے بارے میں مرکز کی وضاحت طلبی کو غیر ضروری قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو ریاست کے امور میں مداخلت کا کوئی حق نہیں۔ حکومت نے واضح کردیا تھا کہ اس سروے کا مقصد فلاحی اسکیمات کے فوائد حقیقی مستحقین تک پہنچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں مقیم آندھرائی عوام کو ہراساں کرنا اس سروے کا مقصد نہیں تھا ، یہی وجہ ہے کہ عوام نے بھرپور انداز میں سروے میں حصہ لیا ۔