ٹی آر ایس نے نظام شوگر فیاکٹری کے احیاء کا وعدہ فراموش کردیا

فیکٹری کا ہراج کرنے حکومت کا منصوبہ، گنے کی کاشت میں کمی
حیدرآباد ۔ 19 مئی (سیاست نیوز) تشکیل تلنگانہ سے قبل تلنگانہ راشٹرا سمیتی کی جانب سے نظام شوگر فیاکٹری کے احیاء کے متعلق پارٹی قیادت کی جانب سے متعدد اعلانات کئے گئے لیکن ریاست تلنگانہ کی تشکیل اور تلنگانہ میں ٹی آر ایس کو اقتدار حاصل ہونے کے بعد نظام شوگر فیاکٹری کے احیاء کا مسئلہ سرد مہری کا شکار ہوچکا ہے بلکہ اب سرکاری گوشوں میں یہ بات گشت کررہی ہیکہ حکومت کی جانب سے نظام شوگر فیاکٹری کو ہراج کے ذریعہ فروخت کرنے کی منصوبہ کی جارہی ہے۔ شکرنگر بودھن میں موجود اس عظیم الشان شوگر فیکٹری کا مستقبل ریاست تلنگانہ میں روشن نظر نہیں آرہا ہے چونکہ حکومت کی جانب سے اس وسیع صنعت کو ختم کرنے کے متعلق غور کیا جانے لگا ہے۔ بتایا جاتا ہیکہ صنعتی ادارے کی موجودگی سے ہونے والے فائدے و نقصانات کا جائزہ لیتے ہوئے اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ یہ صنعت باقی رکھی جائے یا پھر اسے فروخت کردیا جائے۔ بتایا جاتا ہیکہ عرصہ دراز سے نظام شوگر فیکٹری کے بعد ہونے اور نقصان میں چلنے کے باعث اطراف موجود گنے کی کاشت کرنے والے کاشتکاروں نے دوسری اشیاء کی پیداوار شروع کردی ہے جس کے سبب اطراف کے علاقوں میں گنے کی کاشت میں کافی کمی واقع ہوئی ہے۔ اسی لئے نظام شوگر فیکٹری کا دوبارہ مکمل احیاء دشوارکن نظر آرہا ہے۔ بتایا جاتا ہیکہ حکومت کی جانب سے اس صنعتی ادارہ کو حاصل کرتے ہوئے دوبارہ کارکرد بنانے کے متعلق جائزہ لیا جارہا ہے لیکن اس سلسلہ میں کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ نظام شوگر فیکٹری انتظامیہ کی جانب سے کاشتکاروں کو رقومات کی عدم ادائیگی کا مسئلہ بھی زیردوراں ہے اور اس مسئلہ کے حل کے بعد ہی کوئی قطعی فیصلہ ممکن ہے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب محکمہ صنعت کی جانب سے نظام شوگر فیکٹری کے احیاء یا ہراج کے متعلق رپورٹ پیش کرنے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور اس کمیٹی سے اس بات کی خواہش کی گئی ہیکہ کمیٹی اندرون 3 ماہ تمام حالات کا جائزہ لیتے ہوئے رپورٹ پیش کرے۔ کمیٹی کو دی گئی مہلت کے متعلق بتایا جاتا ہیکہ کمیٹی میں شامل ماہرین نے کافی کم قرار دیا ہے اور اس بات کی خواہش کی ہیکہ تمام حساب کتاب کا جائزہ لینے کے علاوہ دیگر امور کا باریک بینی سے معائنہ کرنے کیلئے کم از کم 6 ماہ کی مدت درکار ہے اور کمیٹی کی جانب سے اندرون 3 ماہ تفصیلی رپورٹ کی عدم تیاری کی صورت میں محکمہ سے مزید 3 ماہ کی مہلت طلب کئے جانے کا امکان ہے۔