ٹی آر ایس نے بی جے پی کی بی ٹیم کی طرح کام کیا

تحریک عدم اعتماد کے موقع پر مسلم تحفظات پر مرکز پر دباؤ ڈالنے میں ناکامی : محمد علی شبیر کا بیان
حیدرآباد ۔ 22 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے ٹی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان خفیہ اتحاد پھر ایک بار آشکار ہوجانے کا دعویٰ کیا ۔ کانگریس میں شیر رہنے والے ڈی سرینواس ٹی آر ایس میں بلی بن جانے کا ریمارکس کیا ۔ آئندہ انتخابات میں ٹی آر ایس 10 حلقوں پر بھی کامیاب نہ ہونے کی پیش قیاسی کی ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ 15 سال بعد پیش ہونے والے تحریک عدم اعتماد میں تقسیم ریاست کے بل میں تلنگانہ سے کئے گئے وعدوں کو اٹھانے اور 12 فیصد مسلم تحفظات کے معاملے میں مرکز پر دباؤ ڈالنے کا سنہری موقع گنوا دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس نے پارلیمنٹ میں بی جے پی کی بی ٹیم کی طرح کام کرتے ہوئے تلنگانہ کے عوام بالخصوص مسلمانوں کو مایوس کردیا ۔ ٹی آر ایس کے موقف سے اندازہ ہوگیا کہ بی جے پی اور ٹی آر ایس کے درمیان خفیہ اتحاد ہے ۔ مودی سے وفاداری نبھانے چیف منسٹر کے سی آر نے ریاست کے مفادات کو نظر انداز کردیا ۔ محمد علی شبیر نے صدر کانگریس راہول گاندھی کی تقریر کو مثالی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے جہاں اقلیتوں میں ڈر و خوف دور ہوا ہے وہیں دستور محفوظ رہنے اور سیکولرازم مستحکم ہونے عوام میں امیدیں پیدا ہوئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم تلنگانہ تشکیل دینے کے خلاف ریمارکس کرکے تلنگانہ عوام اور تلنگانہ کے لیے زندگیاں قربان کرنے والوں کی توہین کررہے تھے ۔ ٹی آر ایس کے ارکان ایوان میں بیٹھ کر تماشہ دیکھ رہے تھے جس کا عوام نے سخت نوٹ لیا ہے ۔ اس کی ٹی آر ایس کو انتخابات میں قیمت چکانی پڑے گی ۔ ریاست میں جب بھی انتخابات منعقد ہوں گے ٹی آر ایس کو 10 حلقوں پر بھی کامیابی حاصل نہیں ہوگی ۔ ڈی سرینواس کی دوبارہ کانگریس میں واپسی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ ڈی سرینواس نے کانگریس میں شیر جیسی سیاسی زندگی گذاری تھی ۔ ٹی آر ایس میں شامل ہونے کے بعد وہ بلی بن گئے ہیں ۔ ٹی آر ایس میں ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مخالف عوام دشمن پالیسیوں اور وعدوں پر عدم عمل آوری کے باعث ٹی آر ایس عوامی اعتماد سے محروم ہوچکی ہے ۔ ریاست میں ٹی آر ایس کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے ۔ یہاں تک کہ چیف منسٹر کے سی آر کی دختر کویتا کے دوبارہ حلقہ لوک سبھا نظام آباد سے کامیاب ہونے کے امکانات نہیں ہیں ۔