ٹی آر ایس حکومت میں غریبوں کے ڈبل بیڈ روم مکانات کے خوابوں کی عدم تعبیر

غریبوں میں مایوسی ، ارکان اسمبلی و کونسل کے نئے کوارٹرس کی تکمیل ، غریبوں سے امتیاز
حیدرآباد ۔ 26 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : غریب عوام کو ڈبل بیڈ روم مکانات کا خواب دیکھانے والی ٹی آر ایس اس کو 4 سال میں شرمندہ تعبیر کرنے میں ناکام ہوگئی ہے ۔ 2.80 لاکھ مکانات تعمیر کرنے کا وعدہ کیا گیا مگر ہنوز 10 ہزار مکانات تعمیر کرتے ہوئے غریب عوام کو مایوس کیا ہے ۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں ایک لاکھ ڈبل بیڈ روم مکانات تعمیر کرنے کا وعدہ کیا گیا ۔ سوائے سکندرآباد میں تقریبا 400 مکانات تعمیر کرنے کے اور کسی بھی مقام پر مکانات غریب عوام کے حوالے نہیں ہوئے جب کہ چیف منسٹر کیمپ آفس چٹکیوں میں تمام عصری سہولیات سے تعمیر ہوگیا ہے ۔ ارکان اسمبلی کے لیے حلقوں کے ہیڈکوارٹرس پر تعمیر ہونے والے کیمپ آفس آخری مراحل پہونچ چکے ہیں ۔ حیدرآباد میں ارکان اسمبلی اور ارکان کونسل کے لیے نئے کوارٹرس تعمیر ہوچکے ہیں ۔ بس صرف اس کا افتتاح کرنا باقی ہے ۔ ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیرات میں بھی امتیاز برتا جارہا ہے ۔ چیف منسٹر کے حلقہ اسمبلی گجویل ، وزیر آبپاشی ہریش راؤ کے حلقہ اسمبلی سدی پیٹ اور وزیر عمارات و شوارع ٹی ناگیشور راؤ کے اسمبلی حلقہ میں ہی ڈبل بیڈ روم مکانات تیزی سے تعمیر ہورہے ہیں ۔ دوسرے اسمبلی حلقوں میں تعمیری کام کافی سست رفتار سے جاری ہیں ۔ وزیر فینانس ایٹالہ راجندر نے ان کے اپنے حلقہ اسمبلی میں ڈبل بیڈ روم مکانات کی تاخیر پر کنٹراکٹرس کے خلاف برہمی کا اظہار کیا ہے ۔ حالیہ دنوں میں سمنٹ اور لوہے کی قیمتوں میں اضافہ ہوجانے کا بھی ڈبل بیڈروم مکانات کی تعمیر پر اثر پڑا ہے ۔ لاریوں کی ہڑتال سے تعمیری اشیاء منتقل کرنے میں کافی دشواریاں پیش آرہی ہیں ۔ متحدہ ضلع نظام آباد کے لیے حکومت نے 15,533 مکانات منظور کئے ۔ جس میں ضلع نظام آباد کے لیے 8375 اور ضلع کاماریڈی کے لیے 7158 مکانات شامل ہیں ۔ تاہم ان میں 10 فیصد مکانات بھی تعمیر نہیں ہوئے ۔ اسمبلی حلقہ بانسواڑہ میں 2950 مکانات منظور کئے جن میں 2195 مکانات زیر تعمیر ہے ۔ لیکن 100 مکانات تعمیر کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر شور شرابہ کیا گیا ۔ ضلع میں صرف ایک مقام پر ہی چند مکانات تعمیر ہوئے ہیں ۔ اس حلقہ کی وزیر زراعت پوچارام سرینواس ریڈی نمائندگی کرتے ہیں جس کی وجہ سے 100 مکانات تعمیر ہوئے ہیں ۔ دوسرے اسمبلی حلقوں میں مکانات کے تعمیرات کی کوئی پیشرفت نہیں ہے ۔ ضلع نظام آباد میں محکمہ عمارات و شوارع کی جانب سے 6454 مکانات منظور کئے گئے ۔ جن میں 5207 مکانات کی تعمیرات کے لیے ٹنڈرس طلب کئے گئے ۔ ان میں 3765 مکانات کے لیے ٹنڈرس کا عمل مکمل ہوچکا ہے ۔ ماباقی 1442 مکانات کے لیے ابھی تک ٹنڈرس بھی طلب نہیں کئے گئے ۔ سارے ضلع میں صرف 1086 مکانات ہی زیر تعمیر ہے ۔ جب کہ اسمبلی حلقوں بودھن ، کاماریڈی ، یلاریڈی ، جوکل ، نظام آباد میں منظور ہوئے مکانات میں ایک مکان بھی تعمیر نہیں ہوا ۔ اس طرح ریاست کے تمام اضلاع کی یہی صورتحال ہے ۔۔