ٹی آر ایس اور بی جے پی میں خفیہ مفاہمت : وی ہنمنت راؤ

جے ڈی ایس کا ووٹ بالواسطہ بی جے پی کے حق میں ، سکریٹری اے آئی سی سی کا دعویٰ
حیدرآباد ۔ 11 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : سکریٹری اے آئی سی سی و سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ نے کہا کہ ٹی آر ایس اور بی جے پی میں خفیہ مفاہمت ہوچکی ہے ۔ جے ڈی ایس کو دیا جانے والا ووٹ بالواسطہ بی جے پی کے حق میں جانے کا دعویٰ کیا ۔ تروپتی میں امیت شاہ کی گاڑی پر حملے کی ابتدا قرار دیا ۔ آج یہاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وی ہنمنت راؤ نے کرناٹک کے عوام سے اپیل کی کہ فیصلے کی گھڑی میں اپنا ووٹ ہرگز ضائع نہ کریں ۔ جے ڈی ایس کو دیا جانے والا ہر ووٹ بالواسطہ بی جے پی کی پاکٹ میں جائے گا کیوں کہ تلنگانہ میں جس طرح ٹی آر ایس اور بی جے پی نے خفیہ معاہدہ کیا ہے اس طرح کرناٹک میں بھی جے ڈی ایس اور بی جے پی کا خفیہ معاہدہ ہوچکا ہے ۔ وی ہنمنت راؤ نے کرناٹک کے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ صدر مجلس اسد الدین اویسی پر بھروسہ کرتے ہوئے اقتدار ، فرقہ پرست بی جے پی کے حوالے کرنے کی غلطی نہ کریں ۔ بلکہ اپنے ووٹ کو کانگریس کے حق میں استعمال کرتے ہوئے سیکولرازم کو مستحکم کرنے میں تعاون کریں ۔ بی جے پی اور جے ڈی ایس کے درمیان جب خفیہ معاہدہ ہوگیا ہے تو جے ڈی ایس کو ووٹ دینا بی جے پی کو ووٹ دینے کے مترادف ہوگا ۔ کانگریس کے قائد نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے 4 سال میں 4 ہزار سے زائد کسانوں نے خود کشی کی ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر ان کے ارکان خاندان کے علاوہ ریاستی وزراء اور ٹی آر ایس کے عوامی منتخب نمائندوں نے متاثرہ کسانوں کے خاندان کو پرسہ دینا بھی مناسب نہیں سمجھا ۔ انتخابی مفاد پرستی کی خاطر الیکشن سے عین قبل کسان بندھو اسکیم کا آغاز کرتے ہوئے کسانوں کو پھر ایکبار دھوکہ دینے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ چیف منسٹر تلنگانہ کی دھوکہ دہی کا چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی اور ڈی ایم کے کے ورکنگ پریسیڈنٹ اسٹالن کو علم ہوگیا ہے ۔ جس کی وجہ سے دونوں قائدین نے مدعو کرنے کے باوجود رعیتو بندھو اسکیم میں شرکت نہیں کی ہے ۔ تروپتی میں بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ کی کار پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کا زوال شروع ہوچکا ہے اور کہا کہ ابھی تو یہ ابتداء ہے آگے آگے ہوتا ہے کیا دیکھنا باقی ہے ۔۔