ٹیلی کام اداروں کی لاپرواہی پر چندرابابو نائیڈو برہم

اجلاس میں غیر حاضری پر پولیس روانہ کرنے نمائندوں کو چیف منسٹر کی دھمکی
وشاکھاپٹنم 14 اکٹوبر (پی ٹی آئی) آندھراپردیش کے چیف منسٹر این چندرابابو نائیڈو نے ساحلی اضلاع میں طوفان ہدہد کے گذر جانے کے بعد کی صورتحال سے جلد نمٹنے میں مختلف ایجنسیوں کی ناکامی پر آج شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہاکہ متاثرہ عوام کو تیز رفتار امداد رسانی کے لئے تمام متعلقہ افراد اور اداروں کو صحیح انداز میں کام کرنا چاہئے۔ چندرابابو نائیڈو نے آج یہاں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ اُنھوں نے تمام ایجنسیوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ آج رات طلب کردہ اجلاس میں کسی حیلہ و بہانہ کے بغیر شرکت کریں لیکن ٹیلی کام ادارے اپنی خدمات کو ناکامی و مسدودی کو روکنے میں ناکام ہوگئے ہیں جس سے عوام بُری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ مسٹر چندرابابو نائیڈو نے کہاکہ ’’میں یہاں ان ایجنسیوں کے ساتھ کسی قدر سخت ہوگیا ہوں۔ میں نے ٹیلی فونس (خدمات فراہم کرنے والوں سے بھی یہی) کہا تھا کہ (یہ کام) آج شام تک مکمل ہوجانا چاہئے۔ صرف اجلاس میں نہ آنا بلکہ اُن کا عام رویہ بھی اچھا نہیں ہے۔ میں ان تمام کو وارننگ دے چکا ہوں۔ مجھے اس حد تک پہونچنا پڑا ہے۔ کسی کو بھی میرے بارے میں غلط فہمی کا شکار نہیں رہنا چاہئے۔ اگر کوئی میرے اجلاس میں نہیں آئے گا تو میں کہہ چکا ہوں کہ ہم پولیس بھیج دیں گے۔ جی ہاں! بس یہی میرا حکم ہے جو میں دے چکا ہوں‘‘۔ طوفان ہدہد اتوار کو بندرگاہ کے شہر وشاکھاپٹنم سے ٹکرایا تھا جس کے نتیجہ میں ہر طرف بدترین تباہی پھیل گئی تھی اور انفراسٹرکچر کو بھاری نقصانات کے ساتھ عام زندگی عملاً مفلوج ہوگئی تھی۔ چندرابابو نائیڈو نے کہاکہ بشمول ٹیلیفون خدمات فراہم کنندگان تمام ایجنسیوں کو چاہئے کہ وہ مصیبت زدہ عوام کی مدد کی کوشش کریں۔ اُنھوں نے کہاکہ ’’یہ خدمات فراہم کرنے کا سوال ہے۔ عوام پریشان ہیں۔ عوام مصیبتوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ بہتر سے بہتر خدمات کی فراہمی ہمارا فرض ہے۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو یہی کہا جائے گا کہ ہمیں صرف نفع حاصل کرنے سے دلچسپی ہے اور ہم (ٹیلی کام ادارے) صرف اشتہارات ہی دیتے ہیں اور کوئی خدمات فراہم نہیں کرتے۔ چنانچہ سب کو آگے آنا چاہئے‘‘۔ وشاکھاپٹنم میں اکثر موبائیل نیٹ ورکس ناکارہ ہوچکے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہاکہ ’’ٹیلی فون خدمات فراہم کنندگان کو یہ جواب دینا ہوگا کہ اُن کے ٹاورس ہنوز کیوں کام نہیں کررہے ہیں اور کیا وجہ ہے کہ اُنھیں فوری طور پر بحال نہیں کیا گیا‘‘۔ نائیڈو نے مزید کہاکہ ’’میں نے تمام کوشش کی جو میں کرسکتا تھا۔ مجھے یہ کہتے ہوئے افسوس ہورہا ہے کہ مجھے (ٹیلی کام) آپریٹرس ایسی توقع نہیں تھی کہ وہ اِس حد تک لاپرواہ ثابت ہوں گے‘‘۔