ٹولی چوکی فلائی اوور کا برہم عوام نے خود عملا افتتاح کردیا

حیدرآباد ۔ 21 اپریل ۔ ( سیاست نیوز)حکومت کی جانب سے کسی بھی پراجکٹ کی تعمیر کے بعد اُس کے افتتاح تک اُسے عوام کے لئے کھولا نہیں جاتا لیکن حکومت کے خلاف عوامی غم و غصہ کا اظہار آج اس وقت ہوا جب ٹولی چوکی فلائی اوور پر کھڑی کی گئی رکاوٹوں کو عوام نے اپنے طورپر توڑتے ہوئے افتتاح سے قبل فلائی اوور برج کے استعمال کا آغاز کردیا ۔ ٹولی چوکی فلائی اوور برج کی تعمیر کے دوران ٹولی چوکی چوراہا کے علاوہ مہدی پٹنم سے شیخ پیٹ جانے والی سڑک پر عوام کو ٹرافک کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا لیکن پراجکٹ کی تکمیل کے ایک ماہ گذرنے کے بعد بھی فلائی اوور کا افتتاح نہ کئے جانے سے عوامی مشکلات میں کسی قسم کی کمی واقع نہیں ہوئی تھی بلکہ ٹرافک مسائل میں بتدریج اضافہ ہی ہوتا جارہا تھا ۔ آج دن میں جب زائد از ایک گھنٹہ ٹولی چوکی چوراہا پر ٹرافک جام رہی تو عوام نے برہمی کے عالم میں فلائی اوور کے آغاز و اختتام پر کھڑی کی گئی رکاوٹوں کو راہ سے دور پھینکتے ہوئے فلائی اوور کا استعمال شروع کردیا ۔ برہم راہگیروں نے بتایا کہ عوامی دولت سے تعمیر کردہ پراجکٹس کا استعمال عوام کی سہولت کیلئے ہوتا ہے ۔ اور جب پراجکٹ تکمیل ہوجائے تو کسی قائد کے انتظار میں عوام کو مشکلات میں مبتلا رکھنا درست نہیں ہے ، اسی لئے عوام نے ٹولی چوکی فلائی اوور کے استعمال کا آغاز کردیا ہے۔ ٹولی چوکی فلائی اوور کی تکمیل کے بعد مختلف حیلے بہانوں کے ذریعہ اس کے افتتاح کو ٹالا جارہا تھا جس میں فلائی اوور برج کا نام رکھا جانا بھی ایک وجہ تھا ۔ علاوہ ازیں چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ کی جانب سے وقت نہ دیئے جانے کے سبب دیگر پراجکٹس کے ساتھ اس فلائی اوور کے افتتاح کو بھی معطل رکھا گیا تھا ۔ عوام کی جانب سے فلائی اوور کھول دیئے جانے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ کسی بھی پراجکٹ کی تکمیل کے بعد اُسے طویل عرصہ تک تعطل کا شکار بنائے رکھنا درست نہیں ہے ۔ چونکہ جو پراجکٹس کی تعمیر عمل میں لائی جاتی ہے وہ عوامی سہولیات میں اضافہ کیلئے ہوتی ہے لیکن جب بلدیہ کی جانب سے تعمیر کردہ عوامی سہولیات میں پراجکٹس ہی خلل اندازی ثابت ہونے لگے تو عوامی برہمی ظاہر ہوتی ہی ہے ۔