ٹرین کے کرایوں میں 20 مئی سے 14 فیصد اضافہ

نئی دہلی ۔ 16 مئی (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد جیسے ہی انتخابی عمل ختم ہوا، ریلویز نے آج مسافر اور مال برداری کے کرایوں میں بالترتیب 14.2 فیصد اور 6.5 فیصد کا 20 مئی سے اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے تمام درجوں کے ریلوے مسافرین پر زائد بوجھ عائد ہوگا۔ تمام کلاسیس کے کرایوں میں 10 فیصد کا اعلان کیا گیا ہے اور ایندھن کی قیمتوں کے مصارف سے نمٹنے کے عنوان پر 4.2 فیصد کا زائد اضافہ کیا گیا ہے جس کے ساتھ ہی کرایوں پر نظرثانی کی شرح 14.2 فیصد ہوجائے گی۔ نظرثانی شدہ کاریوں کا اطلاق 20 مئی کے بعد کئے جانے والے سفر کے اس ضمن میں سفر کے آغاز سے قبل ہی خریدے جانے والے ٹکٹوں پر بھی ہوگا۔ ریلویز نے مال برداری کے کرایوں میں بھی مجموعی طور پر 6.4 فیصد کا اضافہ کیا ہے جس میں 5 فیصد عام اضافہ ہے اور ایندھن کے مصارف سے نمٹنے کے عنوان پر 1.4 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔ کرایوں میں نظرثانی کے فیصلہ سے نیم شہری اور غیرشہری سیکشنوں میں سفر کرنے والے مسافرین بھی متاثر ہوں گے کیونکہ وہ سیزن ٹکٹ پر 25 مرتبہ کے بجائے صرف اب صرف 15 مرتبہ سفر کرسکیں گے۔ سیکنڈ کلاس ماہانہ سیزن ٹکٹ (ایم ایس ٹی) کرایہ جات برائے نیم شہری و غیر شہری علاقہ جات اب 15 یکطرفہ سفر کے بجائے 25 یکطرفہ سفر کی بنیاد پر وصول کئے جائیں گے۔ تاہم ریزرویشن فیس، سوپر فاسٹ سرچارج میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

کالے دھن پر یو پی اے حکومت کی سپریم کورٹ میں درخواست
نئی دہلی۔/16مئی، ( سیاست ڈاٹ کام ) سپریم کورٹ کی جانب سے کالے دھن کے تمام معاملات کی جانچ پڑتال کیلئے اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم (SIT) کی تشکیل پر التواء کیلئے یو پی اے حکومت نے اپنی آخری کوشش کی ہے اور یہ خواہش کی ہے کہ سپریم کورٹ کے سابق جج ایم بی شاہ کی قیادت میں سپریم کورٹ اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کرے۔ یو پی اے حکومت کی میعاد کچھ ہی دنوں میں اختتام پذیر ہورہی ہے، نے جسٹس بی ایس چوہان کی قیادت والی ایک بنچ سے استدعا کی ہے کہ نظر ثانی کے لئے داخل کردہ درخواست پر عاجلانہ سماعت کی جائے۔