لکھنو 12 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کارکنوں نے آج سڑکوں پر نکل کر یوپی کے مختلف علاقوں میں ٹرینوں کو روک دیا۔ وہ ریاستی سطح پر ریل روکو، راستہ روکو احتجاج کررہے تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ مرکزی اور ریاستی حکومت دونوں ’’بحیثیت مجموعی ناکام‘‘ رہے ہیں۔ ٹرینوں اور قومی شاہراہوں کی ریاست گیر سطح پر کئی مقامات پر ناکہ بندی کی گئی۔ احتجاج کی قیادت پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نرمل کھتری لکھنو میں کررہے تھے۔ احتجاج حصول اراضی قانون، ریلوے شرح بار برداری میں اضافہ، افراط زر اور نظم و قانون کی ابتر صورتحال اور دیگر مسائل کے خلاف تھے۔ اضلاع میں بھی احتجاج کیا گیا۔ آئی جی آر کے سورنکر نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کہاکہ ریاست گیر احتجاج پرامن تھا۔ کوئی ناخوشگوار واقعہ کہیں بھی پیش نہیں آیا، معمولات زندگی بحیثیت مجموعی غیر متاثر رہے۔ صرف بعض مقامات پر زمینی مواصلات میں خلل اندازی ہوئی۔ لکھنو میں کانگریس کارکنوں نے کھتری کی زیرقیادت کئی ٹرینوں کو تقریباً ایک گھنٹہ روک دیا۔ جھانسی میں سابق مرکزی وزیر پردیپ جین آدتیہ کو اُن کے حامیوں کے ساتھ گرفتار کرلیا گیا جبکہ وہ ریلوے پٹریوں کی ناکہ بندی کے لئے جارہے تھے۔
کانگریس کارکنوں نے کچھ دیر کے لئے کولہاپور اکسپریس کو بھی روک دیا۔ بریلی میں سابق رکن پارلیمنٹ پروین آنند، اُن کی بیوی اور سابق مقامی میئر سپریا آنند کو اُن کے حامیوں کے ساتھ احتجاج کے دوران حراست میں لے لیا گیا۔ سینکڑوں کانگریس کارکنوں کو کئی ٹرینوں کو روک دیا۔ رائے بریلی میں صدر کانگریس سونیا گاندھی، پارٹی کارکن جن کی قیادت ایم ایل سی دنیش پرتاپ سنگھ کررہے تھے، پنجاب ریل کو روکنے میں کامیاب رہے۔ ضلع غازی آباد میں راجیہ سبھا کے کانگریسی ارکان پرمود تیواری اور سنجے سنگھ کو حراست میں لیا گیا تاہم بعدازاں رہا کردیا گیا۔ واراناسی میں کانگریس کارکنوں نے ہوڑہ ۔ امرتسر اکسپریس اور سڑک کی ناکہ بندی کی۔ کانپور میں تقریباً 100 کانگریس کارکنوں نے سابق مرکزی وزیر سری پرکاش جیسوال کی زیرقیادت کالندی اکسپریس کو 15 منٹ تک روک دیا۔ احتجاجی مخالف حکومت بیانرس اُٹھائے ہوئے اور نعرہ بازی کررہے تھے۔ اُن کی پولیس کے ساتھ جو اُنھیں منتشر کرنے کی کوشش کررہی تھی، ہاتھا پائی بھی ہوئی۔