ٹرمپ کے صدرامریکہ بننے کی مائیک ٹائسن نے راہ ہموار کی

واشنگٹن ۔ 16 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ڈونالڈ ٹرمپ نے مائیک ٹائسن کو عالمی اعزاز حاصل کرنے کی جنگ میں شامل کیا جس کا مقصد ان کے جوئے خانوں کو فروغ دینا تھا۔ مائیک ٹائسن کے ساتھ یہ ان کی پہلی ملاقات تھی جس کیلئے ٹائسن کو 10 کروڑ پاؤنڈ فی منٹ معاوضہ ادا کیا گیا جس سے ڈونالڈ ٹرمپ کی تجارتی مملکت تباہ ہونے سے بچ گئی۔ مائیک ٹائسن اور ڈونالڈ ٹرمپ کے اس وقت سے روابط ہیں جبکہ ٹائسن کمسن تھے۔ ان دونوں کی شراکت داری آخرکار مائیک ٹائسن کو اور دیگر دیوالیہ ہونے والوں کو جیل پہنچا کر رہی لیکن نہ تو وہ لوگوں کے ذہن سے فراموش ہوئے اور نہ ان کا مزاج جس نے ٹائسن کو باکسنگ کے شعبہ میں کامیاب بنایا تھا اور ڈونالڈ ٹرمپ کو صدر امریکہ بنایا تھا، برقرار رہی۔ مائیک ٹائسن اور ڈونالڈ ٹرمپ یقینی طور پر شخصی اور کاروباری رشتہ میں 80 کی دہائی کے اواخر سے بندھے ہوئے ہیں لیکن آج تک کی تفصیلات کچھ حد تک گھناؤنی بھی ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہیکہ ٹرمپ ٹائسن کو اعزاز عطا کرنے والے کئی مقابلوں کو فروغ دیتے رہے ہیں۔ اس کے بعد کی تفصیلات واضح نہیں ہیں۔ ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے مقابلوں کے کامیاب فروغ کے کچھ ہی دن بعد مائیک ٹائسن کو سودے میں کاروباری مشیر کا ٹھیکہ حاصل ہوا۔ ٹرمپ ٹائسن کو اپنے ساتھ رکھنے سے گہری دلچسپی رکھتے تھے جس کی نیویارک ٹائمس کے ڈیو اینڈرسن نے پیش قیاسی کی تھی حالانکہ جوس ٹارس کے آخرکار ٹائسن کے باکسنگ کے معاملات میں منیجر بن کر ابھرنے کی افواہیں گرم تھیں لیکن ڈونالڈ ٹرمپ نے جلد ہی ان افواہوں کا خاتمہ کردیا۔ اس کے علاوہ ٹائسن کے مقابلوں کیلئے مالیہ کی آمدنی بند ہوگئی۔ اینڈرسن کی پیش قیاسی اسی سال اواخر میں غلط ثابت ہوئی جبکہ ٹائسن اور ٹرمپ میں معاہدہ طئے پایا۔ ٹائسن کو ٹرمپ کی جانب سے 20 لاکھ امریکی ڈالر ان کی خدمات کیلئے ادا کئے گئے۔ دونوں کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی تاہم ٹرمپ نے ان کے مقابلوں کی میزبانی کرنا اور انہیں فروغ دینا جاری رکھا۔ تاہم ان کے کیریئر میں ٹرمپ کبھی ملوث نہیں ہوئے۔ مثال کے طور پر مائیک ٹائسن کو اٹلانٹک سٹی کے مقابلہ میں اسپنقس کے مقابلہ میں کامیابی حاصل ہوئی۔ بعدازاں اسپنقس کا ذہنی توازن بگڑ گیا اور وہ دوبارہ کسی مقابلہ میں حصہ نہیں لے سکے۔ 30 سال بعد ٹرمپ نے ریپبلکن پارٹی کے اپنے حریفوں سابق دوست ہلاری کلنٹن کو ایک ہولناک سبق سکھایا۔ انہیں پنسلوانیا میں من مانے دھمکیاں دینے، توہین کرنے اور جو چاہے کرنے کی آزادی تو دی لیکن ان کو شکست بھی دے دی۔