دھرم پوری ۔ 19 ۔ نومبر (سیاست ڈاٹ کام) دھرم پوری گورنمنٹ ہاسپٹل سے سیلم کو منتقل کئے گئے مزید دو شیرخوار آج فوت ہوگئے جس کے ساتھ کمسن بچوں کی اموات کی تعداد 13 تک پہنچ گئی جس پر اپوزیشن پارٹیوں نے اس واقعہ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ویسے دھرم پوری گورنمنٹ میڈیکل کالج ہاسپٹل میں 4 نو مولود بچوں کا علاج جاری ہے ۔ ہاسپٹل کے ڈین ڈاکٹر نارائنا بابو نے بتایا کہ مذکورہ بچے امراض تنفس کا شکار ہیں اور انہیں وینٹلیٹر اور وینکیو میٹر پر رکھا گیا ہے اور بچوں کے علاج کیلئے ماہر ڈاکٹروں کو طلب کرلیا گیا ۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج ہاسپٹل دھرم پوری میں 14-17 نومبر کے درمیان 13 بچوں کی موت واقع ہوگئی جس کی تحقیقات کیلئے حکومت نے خصوصی ٹیم تشکیل دی ہے۔ دریں اثناء ریاستی وزیر صحت وجئے بھاسکر ڈائرکٹر میڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹر گیتا لکشمی ، امراض اطفال کے ماہر ڈاکٹر ایس سرینواس نے ہاسپٹل پہنچ کر واقعات کا جائزہ لیا ۔ چیف منسٹر پینر سیلوم نے بتایا کہ طبعی جوہات کی بناء نومولود بچوں کی موت واقع ہوئی ہے اور حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کیلئے فی الفور اقدامات کئے ہیں۔ ڈی ایم کے صدر کرناندھی نے گورنمنٹ ہاسپٹل میں نومولود بچوں کی اموات پر حکمراں جماعت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے
اور الزام عائد کیا کہ حکومت اس واقعہ پر تساہل سے کام لیا ہے ۔ ہاسپٹل میں اسٹاف کی قلت کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر کروناندھی نے کہا کہ سابق ڈین کا یہ دعویٰ ہے کہ طبی آلات کی کوئی قلت نہیں ہے جبکہ ہاسپٹل کے صرف 5 بستروں پر آلات تنفس نصب ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگر حکومت قبل از وقت اقدام اٹھائی تو کئی بچوں کو بچایا جاسکتا تھا۔ دریں اثناء بی جے پی ٹاملناڈو یونٹ کے صدر ٹی سندر راجن نے آج گورنمنٹ ہاسپٹل میں 13 بچوں کی اموات پر وائیٹ پیپر کی اجرائی اور وزیر صحت سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم چیف منسٹر کے اس دعویٰ کو تسلیم نہیں کرسکتے کہ طبعی وجوہات کی بناء بچوں کی اموات واقع ہوئی ہیں جبکہ کل چیف منسٹر نے کہا تھا کہ نو عمری میں حاملہ بن جانا ، زچگیوں کے درمیان بہت کم وقفہ نومولود بچہ کا کم وزن ، اور قبل از وقت زچگی کی وجہ سے ان بچوں کی موت واقع ہوئی ۔ بی جے پی صدر شریمتی سندر راجن نے کہا کہ نومولود بچوں کی اموات کا مسئلہ یہ صرف دھرم پوری ہاسپٹل تک محدود نہیں ہے ۔