حیدرآباد ۔ 25 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : 51 سالہ سومالی خاتون خدیجہ عثمان ایک پیچیدہ مرض جس کا مشاہدہ بھی تاریخ میں شاید ہی دیکھنے کو ملا ہے ۔ ویرنچی ہاسپٹل سے رجوع ہوئیں جہاں پر ان کا کامیاب علاج کیا گیا ۔ اس خاتون کا عظم تراشی (Osteo tomy) اور گھٹنوں کی تبدیلی کا آپریشن کیا گیا ۔ اس کے علاوہ یہ خاتون پیچیدہ گھٹیا اور دوسری ہڈیوں کے نقائص کا بھی شکار تھی جس کا جنوبی ہند میں پہلا کیس دیکھا گیا ۔ دونوں گھٹنوں میں گھٹیا کے باعث یہ خاتون دو سال سے چلنے پھرنے سے معذور تھی ۔ اس کے علاوہ اس کے سیدھے پیر میں فریکچر کے بعد ہڈی کو تیڑھا یعنی 45 درجہ میں بٹھا دیا گیا تھا ۔ بیرون انڈیا دو ممالک میں اور حیدرآباد کے دوسرے دواخانوں میں اس خاتون کے علاج سے انکار کردیا گیا تھا ۔ بالاخر یہ خاتون ویرنچی ہاسپٹل سے رجوع ہوئی جہاں پر ایک خاص ایکسرے جو ایک مخصوص سافٹ ویر سے جڑا ہوا ہے جوڑ میں نقص کا نہ صرف مشاہدہ کیا گیا بلکہ کامیاب طور پر اس کا آپریشن بھی کیا گیا ۔ یہ خاص سہولت صرف ویرنچی ہاسپٹل میں موجود ہے ۔ ڈاکٹروں کی ٹیم ڈاکٹر ادتیا کپور کی قیادت میں اس پیچیدہ آپریشن کو کامیابی سے انجام دیا اور 45 درجہ ہڈی کے نقص کو سیدھا کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کی بیماری بہت ہی کم دیکھنے میں آتی ہے ۔ جس کی اہم وجوہات میں وزن کی زیادتی اور ہڈیوں کی کمزوری ہے ۔ اس آپریشن ٹیم میں ڈاکٹر نتیش کولوسو ، آرتھوپیڈک سرجن ، ڈاکٹر مرلیدھر جوشی اور ڈاکٹر اوما نے حصہ لیا ۔۔