حیدرآباد 3 فبروری (سیاست نیوز) ہائیکورٹ میں آج معمول کی سرگرمیاں مفلوج ہوگئیں کیونکہ وکلاء کی کثیر تعداد نے ہائیکورٹ کی فوری تقسیم کا مطالبہ کرتے ہوئے پرانے شہر میں احتجاجی دھرنا منظم کیا۔ تلنگانہ کے ایڈوکیٹس نے جو مختلف اضلاع سے یہاں جمع ہوئے تھے، ہائیکورٹ کے راستے مدینہ بلڈنگ چوراہا پر انسانی زنجیر بنائی اور تلنگانہ ریاست کے لئے علیحدہ ہائیکورٹ کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگائے۔ تلنگانہ ایڈوکیٹس نے آج اپنے کام کاج کا بائیکاٹ کیا اور احتجاج میں شریک ہوئے۔ اِس کی وجہ سے عدالت میں معمول کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ احتجاجی وکلاء کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ ہائیکورٹ کی تقسیم تک ججس کے تقررات نہیں ہونے چاہئیں۔ انھوں نے عدلیہ کی تقسیم کا عمل تیز کرنے پر زور دیا تاکہ 29 ویں ریاست تلنگانہ میں کسی خلل اندازی کے بغیر کام کاج جاری رہ سکے۔ وکلاء نے ہائیکورٹ کی سمت بڑھتے ہوئے کچھ دیر کے لئے احاطہ عدالت میں احتجاج کیا۔ وکلاء کے احتجاج کی وجہ سے ٹریفک نظام درہم برہم ہوگیا تھا۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت فوری اقدامات نہ کرے تو احتجاج میں شدت پیدا کی جائے گی اور مرکز پر دباؤ ڈالنے کے لئے بڑے پیمانے پر احتجاج شروع کیا جائے گا۔ چارمینار پولیس نے علحدہ تلنگانہ ہائی کورٹ کے قیام کیلئے احتجاج کرنے والے وکلاء کے خلاف ایک مقدمہ درج کرلیا ہے ۔ اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس چارمینار ڈیویژن مسٹر اشوک چکرورتی نے بتایا کہ ایڈوکیٹس راجندر ریڈی ، کونڈا ریڈی ، لکشمیا ، جی موہن راؤ ، چندریا ، جگن ، رگھوناتھ ، رنگاراؤ ، سہادیو ریڈی ، پی کرشنا ریڈی ،لکشمن کمار اور دیگر 12 وکلاء کے خلاف دفعہ 188 ، 353 اور 70(B) کے تحت ایک مقدمہ درج کیا ہے ۔ واضح رہے کہ گذشتہ دو دن سے تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے تمام وکلاء نے ریاست کے کورٹس میں کام کا بائیکاٹ کیا ہے اور حیدرآباد ہائی کورٹ کے قریب مسلسل دھرنا و احتجاج پروگرام جاری ہے ۔