وٹیکن سٹی ۔ 13 مئی (سیاست ڈاٹ کام) وٹیکن نے سرکاری طور پر مملکت فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ اسرائیل نے کہا کہ اسے اس اعلان سے مایوسی ہوئی ہے۔ وزارت خارجہ اسرائیل کے ایک بیان میں کہا گیا ہیکہ اس اقدام سے امن کارروائی میں کوئی مدد نہیں ملے گی بلکہ فلسطینی قیادت راست و باہمی بات چیت کیلئے تیار نہیں ہوگی۔ اسرائیل نے کہا کہ وہ معاہدہ کا تفصیلی مطالعہ کرے گا اور اس میں مجوزہ اقدامات پر گہرائی سے غور کرے گا۔ اس سلسلہ میں ایک نیا معاہدہ طئے پایا ہے۔ اس معاہدہ کو آج قطعیت دی گئی لیکن ہنوز اس پر دستخط نہیں کئے گئے ہیں۔ تاہم یہ بات واضح ہیکہ ارض مقدس کے سفارتی تعلقات پی ایل او کی مملکت فسلطین سے قائم ہوجائیں گے۔ وٹیکن نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 2012ء میں مملکت فلسطین کو تسلیم کرنے کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا لیکن معاہدہ جو اولین قانونی دستاویز ہوگی، مملکت فلسطین اور ارض مقدس کے درمیان مذاکرات کا موضوع ہے
اور ایک سرکاری سفارتکار نے کہا کہ دستوری اعتبار سے مملکت فلسطین کو تسلیم کرلیا گیا ہے۔ صدر فلسطین محمود عباس ہفتہ کے دن پوپ فرانسیس سے ملاقات کریں گے۔ وٹیکن غیرسرکاری طور پر مملکت فلسطین کے ساتھ گذشتہ ایک سال سے تعلقات برقرار رکھے ہوئے تھا۔ پوپ فرانسیس کے 2014ء میں ارض مقدس کے دوران وٹیکن کے عہدیداروں نے اس پروگرام کو محمود عباس کو مملکت فلسطین کا صدر تسلیم کرنے کے مترادف قرار دیا تھا۔ وٹیکن کے تازہ ترین سالانہ کیلنڈر میں فلسطینی سفیر کو مملکت فلسطین کا نمائندہ قرار دیتے ہوئے فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ وٹیکن کے وزیرخارجہ مانسگنور انٹیون کیمیلیری نے موقف میں تبدیلی کی توثیق کی بشرطیکہ معاہدہ پر پی ایل او کے دستخط ہوجائیں۔ اس کے بعد مملکت فلسطین کو قطعی طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ موقف کی یہ تبدیلی بحرمقدس کے موقف کے مطابق ہے۔