نئی دہلی،17 فروری -کمشنر برائے اقلیات، حکومت ہند و سابق صدر شعبۂ اسلامک اسٹڈیز و سابق ڈائریکٹر ذاکر حسین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی، پروفیسر اخترالواسع کو حال ہی میں روم (اٹلی) میں عیسائی مسلم تعلقات کے حوالے سے ایک بین الاقوامی کانفرنس میں مدعو کیا گیا۔ یہ کانفرنس پاپائیت انسٹی ٹیوٹ آف عربک اینڈ اسلامک اسٹڈیز کے تیونس (شمالی افریقہ) سے روم میں منتقلی کے پچاسویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کیا گیا تھا۔ اس بین الاقوامی کانفرنس میں امریکہ سے آسٹریلیا تک ہر براعظم کی نمائندگی تھی جب کہ پورے جنوبی ایشیا کی نمائندگی صرف پروفیسر اخترالواسع کررہے تھے۔ اس کانفرنس میں تمام شرکاء کے اتفاق رائے سے مذاہب کے باہمی احترام پر زور دیا گیا۔
پروفیسر اخترالواسع نے کانفرنس میں اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام شمولیت پسندی اور مذہبی تکثیریت کا قائل ہے اور جہاں تک اظہار رائے کی آزادی کا سوال ہے اس کا استعمال کسی کی بلاوجہ اہانت یا دل آزاری کے لیے نہیں کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلمان نہ تو دہشت گردوں کے ہمنوا ہیں اور نہ ہی توہین آمیز اور رسوائے زمانہ کارٹون چھاپنے والوں کے۔
پروفیسر اخترالواسع نے اس بین الاقوامی کانفرنس میں 100 سے زائد مندو بین پر مشتمل کیتھولک عیسائی دنیا کے سب سے بڑے رہنما سے ملاقات کی اور پاپائے روم کی خدمت میں ایک شال بطور ہدیہ پیش کیا اور انہوں نے فرانس کے حادثہ کے بعد اسلام اور مسلمانوں کے حوالہ سے جو بیان دیا اس کے لیے شکریہ بھی ادا کیا۔ اور پروفیسر اخترالواسع نے پوپ سے کہا کہ مسلمان صرف حضرت محمدؐ ہی نہیں بلکہ حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ سمیت کسی بھی رسول اور مذہبی پیشوا کی اہانت کو برداشت نہیں کرتے۔