ووٹوں کی گنتی کس طرح کی جاتی ہے

الیکٹرانک ووٹنگ مشینس سے ووٹوں کی گنتی تیز اور آسان

پہلے کی طرح دو تین دن کے بجائے اب صرف چند گھنٹوں میں انتخابی نتائج معلوم ہوں گے
حیدرآباد 15 مئی (ایجنسیز) الیکٹرانک ووٹنگ مشینس کو متعارف کرنے سے ووٹوں کی گنتی تیز اور آسان ہوگئی ہے ۔ پہلے کے برعکس جب پیپر بیالٹس کو شمار کرنے میں دو تا تین دن درکار ہوتے تھے اب انتخابی نتائج چند گھنٹوں میں معلوم ہوجاتے ہیں۔ 16 مئی کو کیا ہوگا اس طرح ہے ۔
٭ ایک حلقہ اسمبلی (ایک لوک سبھا نشست کے تحت ) کیلئے گنتی پہلے سے الاٹ کردہ کاونٹنگ سنٹر پر کی جاتی ہے ۔ ہمیشہ پوسٹل بیالٹس کو گنتی کیلئے پہلے شروع کیا جاتا ہے۔
٭ ای وی ایم گنتی کو پوسٹل بیالٹس کی گنتی کے آغاز کے 30 منٹ بعد ہی شروع کیا جاسکتا ہے ۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشینس کو اسٹرانگ روم سے رائے شماری کے مرکز کو مناسب حفاظتی انتظامات کے ساتھ لایا جاتا ہے۔
٭ گنتی کے مقام پر زیادہ سے زیادہ 14 ٹیبلس ہوتے ہیں با الفاظ دیگر صرف 14 الیکٹرانک ووٹنگ مشینس ہی ایک وقت میں گنتی کرسکتے ہیں۔
٭ ہر کاونٹنگ ٹیبل پر ایک سرکاری عہدیداروں اور امیدواروں کے ایجنٹس ہوتے ہیں۔ جو ان کے امیدواروں کے مفادات کی نگرانی کیلئے موجود ہوتے ہیں۔
٭ الیکٹرانک ووٹنگ مشینس سے نمٹنے والے عہدیدار اور الیکشن ایجنٹس کو ایک تار کے مشین کے ذریعہ علحدہ رکھا جاتا ہے تا کہ وہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو ہاتھ نہ لگاسکیں ۔
٭ ہر کاونٹنگ ٹیبل پر موجود رہنے والا سرکاری عہدیدار کیاریٹنگ کیس اور ووٹنگ مشین پر کاغذی مہر اور دیگر اہم مہر (سلپس ) کا پہلے معائنہ کرتا ہے تا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ یونٹ میں کوئی تحریف نہیں کی گئی ہے ۔
٭ تب سرکاری عہدیدار میشن کو پلٹتا ہے اور ہر امیدوار کے مقابل ریکارڈ کئے گئے ووٹس کو دیکھنے کیلئے ریزلٹ بٹن کو دباتا ہے ۔ پھر اس انفارمیشن کو فارم 17c میں داخل کیا جاتا ہے۔
٭ اس فارم 17c پر امیدواروں کے الیکشن ایجنٹس کی جانب سے دستخط کئے جاتے ہیں اور اسے ریٹرننگ آفیسر کے حوالہ کیا جاتا ہے۔
٭ دیگر 13 ٹیبلس کی جانب سے ان کے فارم 17cکو آر او کے حوالہ کیا جاتا ہے جو نتائج کو ٹیبلیٹس کرتے ہیں ۔ نتیجہ کو ایک بلیک ۔ وہائٹ بورڈ پر ڈسپلے کیا جاتا ہے اور گنتی کے مرکز کے باہر اعلان بھی کیا جاتا ہے ۔
٭آخری دور کی الیکٹرانک ووٹنگ مشین کاونٹنگ پوسٹل بیالٹس کی گنتی کے مکمل ہونے کے بعد ہی کی جاسکتی ہے۔
٭ اسٹیٹ چیف الیکٹورل آفیسر کو مرحلہ واری گنتی کے نتائج سے واقف کروایا جاتا ہے اور یہ سلسلہ قطعی نتائج کے آنے تک جاری رہتا ہے۔
٭ انتخابات میںمقابلہ کرنے والے امیدوار کی جانب سے کسی سرکاری ملازم کو اس کا الیکشن ایجنٹ مقرر نہیں کیا جاسکتا ہے۔
٭ رائے دہی کے بعد الیکٹرانک ووٹنگ مشینس کو اسٹرانگ رومس میں رکھا جاتا ہے جہاں گنتی کے دن تک مرکزی مسلح فورسیس کا پہرہ رہتا ہے ۔
٭ ووٹوں کی گنتی کا آغاز صبح 8 بجے ہوگا اور یہ شام 5 بجے سے قبل ختم ہوگی ۔
٭ ملک بھر 989 گنتی کے مراکز ہیں۔