وقف جائیدادوں کے لیے ایوان کی کمیٹی حکومت کی سنجیدگی کا ثبوت

حیدرآباد۔ 26 ۔ نومبر (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی نے چیف منسٹر کی جانب سے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں ایوان کی کمیٹی کی تشکیل کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں مسلمانوں سے جو وعدہ کیا تھا، اس پر عمل آوری کرتے ہوئے ایوان کی کمیٹی کی تشکیل عمل میں لائی جارہی ہے۔ چیف منسٹر کے اس اعلان سے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور ان کی آمدنی اقلیتوں کی بھلائی پر خرچ کرنے سے متعلق حکومت کی سنجیدگی کا ثبوت ملتا ہے ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اقلیتی بہبود اور اوقافی امور کے سلسلہ میں گزشتہ دو دن سے ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی سے مشاورت کر رہے ہیں۔ اسمبلی میں آج جب دلتوں کو الاٹ کردہ اراضیات کی فروخت کا مسئلہ زیر بحث آیا تو چیف منسٹر نے ایوان کی کمیٹی کی تشکیل کا پیشکش کیا۔ انہوں نے ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی سے مشاورت کے بعد ہاؤز کمیٹی کے دائرہ اختیار میں اوقافی اداروں کو بھی شامل کرنے کا اعلان کیا ۔

محمود علی نے بتایا کہ چیف منسٹر چاہتے ہیں کہ کئی ہزار کروڑ مالیتی اوقافی جائیدادوں کا تحفظ کیا جائے اور اس کی آمدنی اقلیتوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی پر خرچ کی جائے۔ جناب محمود علی نے چیف منسٹر کو تجویز پیش کی کہ اقلیتوں کی تعلیمی ترقی پر خصوصی توجہ مرکوز کی جانی چاہئے۔ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ سے جو بھی آمدنی ہوگی اسے اقلیتوں کی تعلیم پر خرچ کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے ایوان کی کمیٹی کے اعلان پر چیف منسٹر سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ کے مسلمانوں کو ٹی آر ایس حکومت سے امید ہے کہ وہ سابقہ حکومتوں کی جانب سے تباہ کی گئی اوقافی اراضیات کو ناجائز قابضین سے دوبارہ حاصل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اوقافی جائیدادوں اور اراضیات کے تحفظ کیلئے حکومت کو تمام جماعتوں کا تعاون ضروری ہے۔ سیاسی وابستگی سے بالا تر ہوکر تمام جماعتوں کو حکومت سے تعاون کرنا چاہئے ۔ محمود علی نے کہا کہ تلنگانہ میں کئی ایسے اوقافی ادارے ہیں جن کی حقیقی آمدنی وقف بورڈ تک نہیں پہنچ پا رہی ہے۔

کریم نگر ، محبوب نگر اور دیگر علاقوں سے اس طرح کی شکایات ملی ہیں کہ کرایہ داروں سے ہزاروں روپئے کرایہ وصول کرتے ہوئے وقف بورڈ کو معمولی رقم ادا کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان کی کمیٹی کی تشکیل سے تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں کی شناخت اور ان کے تحفظ میں مدد ملے گی۔ حکومت اس بات کی کوشش کرے گی کہ جہاں بھی ممکن ہو ، اراضیات کو قابضین سے حاصل کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ وقف اور ریونیو ریکارڈ میں یکسانیت پیدا کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے ۔ تاکہ اوقافی اراضیات کا ریونیو ریکارڈ کے مطابق اندراج کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت اوقافی جائیدادوں پر ناجائز قبضوں کے خلاف سخت کارروائی کا منصوبہ رکھتی ہے۔ جناب محمود علی نے کہا کہ وقف بورڈ کو جوڈیشیل اختیارات دیئے جائیں گے اور دیانتدار و فرض شناس عہدیداروں کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔