سنٹرل وقف کونسل کے عہدیداروں کی صدرنشین اور ارکان وقف بورڈ سے ملاقات، قرض کے حصول میں تلنگانہ دیگر ریاستوں سے پسماندہ
حیدرآباد۔ 19 اپریل (سیاست نیوز) سنٹرل وقف کونسل کی ٹیم نے آج تلنگانہ وقف بورڈ کا دورہ کرتے ہوئے صدرنشین محمد سلیم اور ارکان سے ملاقات کی۔ اوقافی جائیدادوں کی ترقی کے لیے سنٹرل وقف کونسل سے فراہم کیے جانے والے بلاسودی قرض کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے ارکان نے بتایا کہ ملک کی دوسری ریاستیں اس سہولت سے استفادہ کررہی ہیں لیکن تلنگانہ اس معاملہ میں کافی پیچھے ہے۔ ابھی تک ایک بھی پراجیکٹ کے لیے قرض کی درخواست نہیں کی گئی جبکہ سنٹرل وقف کونسل ایک پراجیکٹ کو 5 کروڑ روپئے تک بلاسودی قرض فراہم کرتی ہے۔ سنٹرل وقف کونسل کے ارکان محمد حامد، عباس علی بوہرا، محترمہ منوری بیگم، ڈاکٹر نظام الدین محسن، عرفان احمد، محمد سلیم اشرفی، رئیس خاں پٹھان اور بعض عہدیدار ان دنوں حیدرآباد کے دورے پر ہیں۔ وہ اپنے دو روزہ قیام کے دوران بعض اوقافی جائیدادوں کا معائنہ کریں گے اور ان کے تحفظ کے اقدامات کا جائزہ لیں گے۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے اوقافی جائیدادوں کی ترقی کے منصوبے سے واقف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ نے پہلے مرحلہ میں 5 جائیدادوں کی نشاندہی کی ہے جنہیں بورڈ اپنے وسائل اور حکومت کی گرانٹس سے ترقی دے گا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور ترقی کے معاملہ میں سنجیدہ ہیں۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے ہر ممکنہ تعاون کا یقین دلایا ہے۔ محمد سلیم نے کہا کہ بہت جلد وقف بورڈ پراجیکٹ رپورٹ سنٹرل وقف کونسل کو روانہ کرے گا۔ انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ ڈیولپمنٹ کے سلسلہ میں پراجیکٹ رپورٹ تیار کریں۔ کونسل کے عہدیداروں نے کہا کہ تلنگانہ میں اوقافی جائیدادیں زیادہ ہیں اور انہیں بہتر طور پر ترقی دیتے ہوئے آمدنی میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ مختلف ریاستوں کی جانب سے سنٹرل وقف کونسل سے قرض حاصل کیا گیا ہے۔ سنٹرل وقف کونسل کی ٹیم نے وقف بورڈ کی کارکردگی، اسٹاف کی ذمہ داریوں اور جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں تفصیلات پیش کرنے کی خواہش کی۔ کونسل کے ارکان کل دوبارہ وقف بورڈ کا دورہ کرتے ہوئے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کریں گے۔ انہوں نے وقف بورڈ کی کارکردگی اور خاص طور پر صدرنشین وقف بورڈ کی خصوصی دلچسپی کو سراہا۔ کونسل کے ارکان نے شام میں درگاہ حضرات یوسفین پر حاضری دی۔